سونہ مرگ میں برفانی تودہ کی زد میں کئی سیاح گاڑیاں ، کوئی نقصان نہیں

محکمہ موسمیات نے چار اضلاع میں برفانی تودے گرآنے کا انتباہ جاری کیا

سرینگر//سونہ مرگ میں متعدد سیاح گاڑیاں برفانی تودے کی زد میں آگئیں تاہم بروقت کارروائی کے دوران سبھی سیاحوں کو بچالیا گیا ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے چار اضلاع میں برفانی تودے گرآنے کا انتباہ جاری کیا ہے ۔ اس بیچ وادی کشمیر میں جمعرات کی شام سے ہی سرینگر سمیت وادی کے دیگر میدانی علاقوں میں درمیانے درجے کی بارشیں شروع ہوئیںجوکہ جمعہ نماز تک وقفے وقفے سے جاری رہیں ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے یکم اپریل سے موسم میںبہتری کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالائی علاقوں میں برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ وائس آف انڈیاکے مطابق وادی کشمیر میں جمعرات کی شام سے ہی موسم نے کروٹ بدلی اور میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری شروع ہوئی اور سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں جمعہ نماز کے بعد بھی وقفے وقفے سے بارشیں جاری رہیں۔ اس بیچ وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع کے سونمرگ کے ہنگ علاقے میں جمعہ کو ایک زبردست برفانی تودہ گرا،برفانی تودے کے نتیجے میں کم از کم سیاحوں کی گاڑیاں دب گئیں۔اس بیچ ایس ایس پی گاندربل کی ہدایت ملنے پر پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور برفانی تودے کے نیچے پھنسی ہوئی دو گاڑیوں کو کامیابی کے ساتھ نکالا۔ اس بیچ حکام نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے چار اضلاع میں برفانی تودے کی تازہ وارننگ جاری کی۔جے اینڈ کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (جے کے ڈی ایم اے) کے ایک اہلکار نے بتایا، “اگلے 24 گھنٹوں میں کپواڑہ، بانڈی پورہ، گاندربل اور بارہمولہ اضلاع میں 2400 میٹر سے اوپر کے درمیانے درجے کے برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔دریں اثناء وادی کشمیر میں گزشتہ شب سے ہی وقفے وقفے سے بارشیں ہیں ۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پہلگام میں 16.4 (ملی میٹر)بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ ویریناگ=12.7(ملی میٹر)اور ضلع کولگام = 10.2 (ملی میٹر)، اسی طرح پلوامہ = 10.0 (ملی میٹر)، بابا پورہ = 10.0 (ملی میٹر)اور جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں 13.0 (ملی میٹر) چراری شریف میں 6.4 (ملی میٹر) 8) ٹنگمرگ میں 6.8 (ملی میٹر) اورسوپور میں 5.8 (ملی میٹر) بارش ریکارڈ کی گئی ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے 31مارچ تک موسم کی صورتحال میں کسی خاص تبدیلی کا امکان ظاہر نہیں کیا ہے ۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ یکم اپریل سے موسمی صورتحال بہتر ہوجائے گی اور درجہ حرارت میں پھر سے اضافہ ہوسکتا ہے ۔ دریں اثناء جموں میں جمعہ کا آغاز ہلکے بادلوں کے درمیان ہلکی بوندا باندی کے ساتھ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی سری نگر، وادی کشمیر کے بڈگام اور جموں ڈویڑن کے پونچھ اور ریاسی میں بارش ہوئی۔ سری نگر میں بارش کے درمیان لوگ چھتریاں لے کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی کئی لوگ رین کوٹ کا سہارا لے کر اپنی منزلوں کی طرف جاتے دیکھے گئے۔موسمیاتی مرکز سری نگر کے مطابق ریاست کے کچھ حصوں میں 30 مارچ تک بارش اور برف باری کے امکانات ہیں۔ قبل ازیں جمعرات کو جموں ڈویڑن کے بیشتر علاقوں میں دن بھر بادل چھائے رہے۔ لیکن گرمی سے کوئی چھٹکارا نہیں ملا۔ جموں میں بھی کم سے کم درجہ حرارت معمول سے بڑھ کر 18.8 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 9.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔اس سے پہلے جمعرات کو جموں اور شری ماتا ویشنو دیوی بیس کیمپ کٹرہ میں گرمی نے پچھلے سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جموں میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 2.7 ڈگری زیادہ ہے، جو 14 مارچ 2023 کو 30.0 ڈگری سیلسیس تھا۔اسی طرح کٹرا میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 3.5 ڈگری بڑھ کر 29 ڈگری سیلسیس ہو گیا جو کہ گزشتہ سال 13 مارچ کو 28.5 ڈگری سیلسیس تھا۔ ادھر سری نگر سمیت کشمیر کے کچھ حصوں میں دوپہر کے وقت ہلکی بارش ہوئی۔ یہاں کا موسم خوشگوار رہتا ہے۔پونچھ-راجوری کو کشمیر سے جوڑنے والی مغل روڈ پر برف ہٹانے کا کام جمعرات کی شام مکمل ہو گیا۔ اس سال مغل روڈ سے ریکارڈ 17 دنوں میں برف ہٹائی گئی ہے۔ اب ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار مغل روڈ کا معائنہ کریں گے۔ اس کے بعد اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔مغل روڈ شدید برف باری کے باعث گزشتہ تین ماہ سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔ PWD مکینیکل انجینئرنگ ونگ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر محمد طارق خان جو ضلع پونچھ سے مغل روڈ سے برف ہٹانے میں مصروف تھے کی نگرانی میں مشینیں برف ہٹاتے ہوئے ضلع پونچھ کے داخلی راستے پیر کی گلی پہنچ گئیں۔ اہلکار کے مطابق برف ہٹانے کا کام جمعرات کی شام دیر گئے مکمل کیا گیا۔ اب ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار مغل روڈ کا معائنہ کریں گے۔ اس کے بعد مغل روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ طارق خان نے بتایا کہ پہلے برف ہٹانے میں ایک ماہ سے زائد کا وقت لگتا تھا لیکن اس بار مغل روڈ سے ریکارڈ 17 دن میں برف ہٹائی گئی ہے۔