شمالی عراق میں دو علیحدہ حملوں میں 12 ترک فوجی جاں بحق

ترک وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شمالی عراق میں گزشتہ دو روز کے دوران کے دو علیحدہ حملوں کے دوران 12 ترک فوجی جاں بحق ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف دہائیوں سے جاری جنگ سبب گزشتہ 25سالوں سے شمالی عراق میں ترکی کی درجنوں فوجی چوکیاں موجود ہیں۔کردستان ورکرز پارٹی کو ترکی نے بلیک لسٹ کیا ہوا ہے اور ترکی اور اس کے متعدد مغربی اتحادیوں نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ترکی نے ہفتے کو کہا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں اس کے 6 فوجی ہلاک ہو گئے۔اس کے بعد ایک اور بیان میں بتایا گیا کہ جمعہ کی رات شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملے میں مزید 6 فوجی بھی مارے گئے۔بیان میں کہا گیا کہ حملے کے بعد ترک فضائیہ نے شام اور عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی جس سے درجنوں دہشت گرد مارے گئے تاہم اس حوالے سے وہ کوئی حتمی اعدادوشمار نہیں بتائے گئے۔ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کو یہ حملے ہاکُرک اور زاپ کے علاقوں میں کیے گئے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے فوجیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور علیحدگی پسندوں کو اس خون کا حساب دینا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی پر اس وقت تک عمل درآمد کرتے رہیں گے جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔پاکستان نے ترکی میں انسداد دہشت گردی آپریشن میں 12 ترک فوجیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اتوار کو وزارت خارجہ امور سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے22 اور23 دسمبر کو انسداد دہشت گردی آپریشن میں 12 فوجیوں کی شہادت پر افسوس اورشہدا کے لواحقین خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور دہشت گردی کی عفریت کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ برادر ترک قوم خصوصی ہمت اور عزم کے ساتھ اس پر قابو پالے گی۔