سال رواں کے آخر تک کسی بڑی موسمی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ، موسم مجموعی طو رپر خشک رہے گا / محکمہ موسمیات
سرینگر // آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کے چلتے چلہ کلان کے دوسرے دن شبانہ درجہ حرارت میں کچھ بہتری درج ہوئی ۔ شہر سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی 3.3ڈگری سیلشس ، پہلگام میں منفی 4.8اور شوپیان میں منفی 5.4ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ادھر جموں میں بھی شدید سردی کی لہر جاری ہے اور گزشتہ شب رواں موسم کی سرد ترین ریکارڈ کی گئی ۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں چلہ کلان نے اپنے زور دکھائے اور سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق رات بھر آسمان ابر آلود رہنے کے باعث وادی کے بیشتر علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے ۔ محکمہ مومسیات کے مطابق گزشتہ شب شہرسرینگر میں درجہ حرارت منفی 3.3ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ اس طرح سے قاضی گنڈ میں منفی 3.0 ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام میں منفی 4.8ڈگری جبکہ شہرہ آفاق گلمرگ میں رات کا درجہ حرار ت منفی 1ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان سرد ترین علاقے درج ہوئے جہاں بالترتیب شبانہ درجہ حرارت منفی 4.8اور منفی 5.4ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں بھی سردی کی لہر جاری ہے اور وہاں کم سے کم درجہ حرارت 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔اسی طرح سے محکمہ موسمیات کے مطابق لیہہ اور دراس میں بالترتیب منفی 10ڈگری اور 12.8 ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ گزشتہ شب وادی کے تمام علاقوں میں بشمول سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت میں گراوٹ دیکھی گئی ۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ 22اور 23دسمبر کی درمیانی رات کو وادی کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برفباری اور بارشیں ہو سکتی ہے جبکہ 24سے 26دسمبر تک موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔










