وادی کشمیر میں زمینی صورتحال میںتبدیلی آئی ۔ مرکزی وزیر

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعدوادی میںایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی: پرہلاد جوشی

سرینگر//پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ اِس حکومت کی دوسری مدت کے پانچ سال کے دوران بہت سے تاریخی بلوں کو منظوری دی گئی ہے۔ اِن بلوں کا تعلق جموں کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیے جانے سے لے کر نئے فوجداری قوانین تک سے ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق نئی دلّی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد وہاں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے نوآبادیاتی تاثر کو ختم کرنے کیلئے بھارت کے فوجداری سے متعلق انصاف کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں، جبکہ یہ نظام، ملک میں برطانوی راج سے اب تک جاری تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بل، وقت کی ضرورتوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے موسمِ سرما کے اجلاس کے کام کاج کے نتائج کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے جناب جوشی نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں 19 بلوں کو منظوری دی گئی۔ پارلیمنٹ کا یہ اجلاس، اِس ماہ کی 4 تاریخ کو شروع ہوا تھا اور یہ کل ختم ہوا ہے۔ پارلیمنٹ کی سیکیورٹی میں خلل کے معاملے پر وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے اِس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کی نقل اتارے جانے پر اپوزیشن کی نکتہ چینی کی اور اِس رویے کی مذمت کی۔ اِسی دوران اپوزیشن، آئی این ڈی آئی اے پارٹیاں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اپوزیشن ارکان کو معطل کیے جانے کے معاملے پر ملک گیر احتجاج کر رہی ہیں۔