سکاسٹ کشمیر نے وادی میں مٹی کے بغیر کاشت کاری کے بارے میں بیداری پروگرام کا اِنعقاد کیا

ایسے پروگرام جن کا مقصد مٹی کے بغیر زراعت میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینااورشہری علاقوں میں مستقبل کے زرعی چیلنجوں سے نمٹناہے

سری نگر / /شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ( سکاسٹ ) کشمیر نے وادی کشمیر میں ’’شہری اور پیری شہری آبادی کی سبزیوں کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے’’ مٹی کے بغیر کاشت‘‘ کے موضوع پر پانچ روزہ بیداری پروگرام کا اِنعقاد کیا۔یہ پروگرام سوپور، اننت ناگ، پلوامہ، ٹنگمرگ اور وڈورہ میں وزارتِ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم اَنٹرپرائزز (ایم ایس ایم اِی) کے تعاون سے منعقد کئے گئے۔ ڈویژن آف ویجی ٹیبل سائنس، فیکلٹی آف ہارٹی کلچر کے زیر اہتمام بیداری پروگرام ایک جدید اوردیرپا کاشت کاری کے طریقے ہیں جو شہری اور پیری شہری آبادیوں کی سبزیوں کی مانگ کو محفوظ بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور ملحقہ علاقوں کے ترقی پسند کسانوں اور نوجوانوں نے بیداری پروگراموں میں شرکت کی۔ ہر پروگرام میں دیہی نوجوانوں اور ترقی پسند کسانوں پر مشتمل پچاس شرکأکو ہدف گیا تھا۔ ماہرین نے مٹی کے بغیر کاشت کاری کے طریقوں پر روشنی ڈالی جس نے بہت سے متعدد فوائد پیش کئے جو پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے اور زراعت میں دیرپایت کو فروغ دینے میں کردار اَدا کرتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ پیداوار اور زراعت میں پائیداری کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔ شرکأکو بتایا گیا کہ کنٹرول، مؤثر اور ماحول دوست اُگانے کے حالات فراہم کرکے مٹی کے بغیر کاشت تازہ اور غذائیت سے بھرپور سبزیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ روایتی کاشت کاری کے ماحولیاتی اَثرات کو کم کرتی ہے۔پروگرام کوآرڈی نیٹر اور ایسو سی ایٹ پروفیسر ،ڈویژن آف ویجی ٹیبل سائنس سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر شہناز مفتی نے پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہری اور پیری شہری علاقوں میں تیزی سے شہری کاری اور آبادی میں اضافے نے تازہ اور غذائیت سے بھرپور سبزیوں کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مٹی کے بغیر کاشت ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک قابل عمل حل پیش کرتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مٹی پر مبنی روایتی زراعت کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے مٹی کے بغیر کاشت سبزیوں کو کنٹرول شدہ ماحول میں اُگانے کی اجازت دیتی ہے جس سے آب و ہوا یا جگہ کی رُکاوٹوں سے قطع نظر مستقل طور پر اعلی معیار کی فصلوں کی پیداوار ممکن ہوتی ہےپروگرام کوآرڈی نیٹر نے وائس چانسلرسکاسٹ کشمیرپروفیسر نذیر احمد گنائی، نوڈل آفیسرایم ایس ایم اِی، پروفیسر ایچ آر نائیک اور ڈین فیکلٹی آف ہارٹی کلچر پروفیسر شبیر حسین وانی اور وزارتِ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کی کاوشوں اور تعاون کو سراہا۔