manooj sinha

جموں کشمیر کے حالات میں ایک مثبت تبدیلی

پتھرائو تاریخ بن گئی ، لوگ رات کی زندگی اور سینما گھروں کی واپسی کے ساتھ معمول کے ثمرات سے لطف اندوز / منوج سنہا

سرینگر // عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 کی منسوخی کو برقرار رکھنے سے جموں و کشمیر کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانے اور محروم طبقات کو انصاف فراہم کرنے کیلئے جموں کشمیر انتظامیہ کی کوششوں کو تقویت ملے گی کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کرے گا اور جموں و کشمیر کی معاشی اور سماجی ترقی کی کوششوں کو آگے بڑھائے گا ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق راجپوت حکمران گلاب سنگھ کے فوجی جنرل زوراور سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370پر کل اپنا فیصلہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے فائدے کیلئے (اگست 2019 میں) منظور کی گئی قرارداد مکمل طور پر آئینی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں جو قوم کے اتحاد اور سالمیت کی جڑوں کو مزید مضبوط کرنے کیلئے پابند ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ایک ’’نئے جموں و کشمیر‘‘ کی بنیاد رکھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوگوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے اور اس سے اتحاد اور سالمیت کی جڑیں مزید مضبوط ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ محروم طبقوں کو سماجی انصاف اور آئینی حقوق کو یقینی بنائے گا اور حکومت کی کوششوں کو فروغ دے گا کہ وہ ’’نئے جموں و کشمیر‘‘کے اپنے ہدف کو حاصل کرے اور اسے ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے۔سنہا نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کرے گا اور جموں و کشمیر کی معاشی اور سماجی ترقی کی کوششوں کو آگے بڑھائے گا جیسا کہ وزیر اعظم نے لوگوں کو دفعہ 370 کے چنگل سے رہائی دلائی تھی۔انہوں نے کہا ’’ سال2010میں مرکز کی طرف سے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد، جموں اور کشمیر کے حالات میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب ہمارے پڑوسی ملک کی طرف سے ہڑتال کے کیلنڈر جاری نہیں کیے جاتے ہیں اور پتھراؤ ایک تاریخ بن گیا ہے۔‘‘ایل جی نے کہا کہ لوگ وادی میں رات کی زندگی اور سینما گھروں کی واپسی کے ساتھ معمول کے ثمرات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جہاں نئے خوابوں اور نئے طرز زندگی نے جنم لیا ہے۔انہوں نے کہا ’’جموں و کشمیر اب دہشت گردی کے لیے بدنام ہونے کے بجائے سیاحت کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پچھلے سال ریکارڈ تعداد میں 1.88 کروڑ سیاحوں نے اس خطے کا دورہ کیا اور اس سال نومبر تک سیاحوں کی تعداد دو کروڑ کو عبور کر چکی ہے۔‘‘