دفعہ370کی منسوخی پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ مایوس کُن

حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی، پُرعزم اور ثابت قدم رہنا کی ضروری/عمر عبداللہ

سرینگر // دفعہ 370کی منسوخی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’آج سپریم کورٹ نے دفعہ370اور 35اے کے خاتمے اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے معاملوں پر فیصلہ سنایا اور ہم ایسے فیصلے کی بالکل بھی اُمید نہیں کررہے تھے اور ہم ملک کے سب سے بڑی عدالت سے جموں و کشمیر کے عوام کیلئے انصاف کی اُمید کررہے تھے‘‘۔سٹار نیوز نیٹ ورک کو موصولہ ایک بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے اپنی خانہ نظربندی کے دوران سماجی رابطہ ویب سائٹ ایکس پر براہ راست ویڈیو پیغام میں کیا۔ یاد رہے کہ نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ سمیت پارٹی لے تمام لیڈران کو گھروں میں غیر اعلانیہ طور پر خانہ نظربند رکھا گیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’بدقسمتی سے ہم 5ججوں کو قائل نہیں کرسکے، لیکن میںیہ یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس سے زیادہ نہیں کرسکتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مخالفین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ میں کیس کا دفاع کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور ہم اپنے وکلاء کپل سبل صاحب اور گوپالا سبرامنیم صاحب سے اس سے بہتر اپنا کیس پیش کرنے کی اُمید نہیں کرسکتے تھے، بدقسمتی سے ہم ججوں کو قائل نہیں کرسکے، جس کیلئے ہمیں نہ صرف افسوس ہے بلکہ ہم جموںوکشمیر اور لداخ کے عوام کے علاوہ ملک کے اُن لوگوں سے معذت خواہ ہیں جو چاہتے تھے کہ ہم اس لڑائی میں کامیاب ہوجائیں۔‘‘جموں وکشمیر کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہاکہ ’’میں عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا، ہماری کوششیں یہاں ختم نہیں ہونگی، عدالت کو چھوڑ کو ہمارا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ یہ ایک سیاسی لڑائی ہے، ایک آئینی لڑائی ہے،قانون کے دائرے کے اندر لڑائی ہے، اگر آج ہم ان 5ججوں کو قائل نہیں کر پائے لیکن اس پہلے بھی 370کو لیکر سپریم کورٹ کے کچھ فیصلے آئے ہیں،چاہے وہ سمپت پرکاش ہو یا اور دوکیس ، اُن میں سپریم کورٹ نے آج کے فیصلے کے عین برعکس اپنا فیصلہ سنایا تھا، اُس وقت 3ججوں کے بنچ کہا تھا کہ دفعہ370ایک مستقل دفعہ ہے اور آئین ساز اسمبلی کے ٹوٹنے کے بعد دفعہ370کو ہٹایا نہیں جاسکتا،لیکن آج 5ججوں نے 3جج بنچ کا فیصلہ بدل دیا، ممکن ہے مستقبل میں ایک اور بنچ ان 5ججوں کے فیصلے کا بدل دیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’جہاں تک سیاسی بات ہے ،کیا سمپت پرکاش کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بی جے پی نے اپنی کوششیں بند کیں ؟ کیا وہ رکے؟ جس چیز کو حاصل کرنے کیلئے بی جے پی نے 1950میں شروعات کی اور 70سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد انہیں کچھ حد تک کامیابی ملی،بے شک عدالتی فیصلے اُن کے حق میں نہیں آئے لیکن انہوں نے اپنی سیاسی کوششیں جاری رکھیں،اسی طرح سے ہم بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے،ہم اپنی کوششیں بند نہیں کریں گے، پُرامن طریقے سے، آئین اور جمہوری طریقے اپنا کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ،اس اُمیدکیساتھ کہ آج نہیں تو کل ملک میں ایسے حالات پیدا ہونگے جب ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت، پہچان اور شناخت کو واپس حاصل کرسکیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’میں اپنے عوام کو صرف یہی یقین دلانا چاہتا ہوں کہ بے شک ہم آج ناکامیاب رہے، لیکن ہم نااُمید نہیں ہیں، دل کو دھکا ضرور پہنچا ہے لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیںگے۔‘‘عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں جموں وکشمیر کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے 2019کے بعد صبر سے کام لیا، انہوں نے حالات اور ماحول کو بگڑنے نہیں دیا، انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، میں چاہوں گا کہ آگے بھی ہم اسی طرح کا لائحہ عمل اختیار کریں، کیونکہ یہ لڑائی ایک دن، ایک ہفتے یا شائد ایک سال کی بھی لڑائی نہیں ہے،ہم اس لڑائی میں کب اپنی منزل تک پہنچیں گے کوئی کہہ نہیں سکتا، لیکن منزل تک پہنچنے کیلئے ہمیں پُرعزم اور ثابت قدم رہنا ہوگا‘‘۔