power

مزید 16500میگاواٹ بجلی پیداکرنے کے ویجن ڈاکومنٹ کاقیام

وسائل کوجوڑنے اخراجات کوپوراکرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں خواب شرمندہ تعبیر ہوگا/ سرکار

سرینگر/ /بیس ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے لئے ویجن 247کے تحت 25چھوٹے بڑے بجلی پروجیکٹوں کاقیام عمل میںلایاجائیگا اور اسکے لئے اراضی اور دیگر ضروریات کو حاصل کرنے کے لئے اقداما ت اٹھائے جارہے ہیں ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموںو کشمیر سرکار نے بیس ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کویقینی بنانے کے لئے اب زمینی سطح پراقدامات اٹھانے کافیصلہ کیاہے اور آنے والے پچیس برسوں کے دوران مزید 16500 میگاواٹب جلی پیدا کرنے کے لئے ان جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں چھوٹے بڑے بجلی پروجیکٹوں کاقیام عمل میں لایاجائیگا ۔آ نے والے پچیس برسوں کے دوران سرکار 16500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے وسائل کو جوڑنے کے لئے اقدامات اٹھائے گی تاکہ جموںو کشمیر میں بجلی کی پیداوارکویقینی بناکر ا سے معاشی اوراقتصادی طور پر ملک کی ان ریاستوں کے ہم پلا بنایاجاسکے جو ہر ایک شعبے میں خود کفالت کی راہ پرگامزن ہونے میں لگی ہوئی ہے ۔جموںو کشمیر میں عرصہ دراز سے بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی باتیں کی جارہی ہے تاہم حکومتوں نے اس سلسلے میں چھ دہائیوں سے اقدامات نہین اٹھائے اور پچھلے چھ دہائیوں سے جموں وکشمیرمیں بجلی کی پیداوار تین ہزار ایک سو 34میگاواٹ تک جاپہنچی ہے اور مزید 16500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے سرکار نے ویجن ڈاکومنٹ 2047منظرعام پر لایاہے او رجموں وکشمیرمیں بجلی کی پیداوار کی طرف آنے والے 25برسوں کے دورا خصوصی توجہ دی جائے گی ۔سرکار بجلی پروجیکٹوں کے قیام کے لئے درکار رقومات کوحاصل کرنے کے لئے دوسرے وسائل کوبروئے کار لائے گی تاکہ اس سنگ میل کو عبور کیاجاسکے ۔سرکار نے پہلے ہی شمسی توانائی کوحاصل کرنے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں اور جموںو کشمیرمیں شمسی تونائی پر آ نے والے برسوں کے دوران چار ہزار کروڑروپے صرف کئے جارہے ہے ۔جموںو کشمیرمیں بجلی پروجیکٹوں کاقیام عمل میں لانے کے لئے زمینی سطح پر سروے کاکام تقریباً مکمل ہوچکاہے اور اب سرکار وسائل کوجوڑنے کی طرف اپنی توجہ مبزول کئے ہوئے ہیں اور 2047تک مزید16500میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے جارہی ہے ۔مرکزی سرکار ے بھی جموںو کشمیرکو یقین دلایا ہے کہ بجلی پروجیکٹوں کے سلسلے میں بھرپورمدد کی جائے گی اور جموںو کشمیر انتظامیہ نے پہلے ہی جوئینٹ ایڈونچر اسکیم کے تحت این ایچ پی سی اور دیگرکمپنیوں کے ساتھ معاہدے بھی تئے کئے ہیں ۔