موجودہ مرکزی سرکار نے عسکریت کوزیرو فیصدی تک پہنچادیاتھا تاہم اب خطرات کے امکانات بڑھ گئے /غلام نبی آزاد
سرینگر/ /جموں وکشمیر کے موجودہ صورتحال کوتشویش ناک قرا ردیتے ہوئے ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ پونچھ راجوری کے بعد گڈہول کوکرناگ عیدگاہ سرینگر اور بمنہ میں جوکچھ ہوا اسے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ حالات پرُخطر ہے موجوہ مرکزی سرکار نے عسکریت میں بیک وقت کمی لائی اور اسے سفر فیصدی تک پہنچایاتاہم1996سے 2018تک ہرایک وزراء اعلیٰ کے دور میں عسکریت میں کمی آ گئی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے آئینی بینچ کے ساتھ امیدیں وابستہ ہے کہ وہ 370کوبحال کرنے کافیصلہ سنادیگا ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں بیک وقت اضافہ ہونے او رٹا رگٹ کلنگ ہونے کے معاملات کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے کہاکہ پونچھ راجوری میں کئی طرح کے واقعات رونماء ہوئے اگر ایسے حالات کوکچلنے کے لئے پولیس وفورسز کی جانب سے اقدامات اٹھائے گئے تاہم گڈہول ککر ناگ ،عیدگاہ سرینگر اور بمنہ سرینگر میں جو عسکر یت پسندوں کے حملے ہوئے کئی پولیس وفورسز کے افسران اور جوان کی ہلاکتوں کے واقعات رونماء ہوئے وہ قابل تشویش ہے۔ سابق وزیراعلٰی نے کہاکہ 1996کے بعدجتنی بھی عوامی حکومتیں منتخب ہوئی انہوںنے عسکریت کوکم کرنے کی کارروائیاں انجام دی او رمرحلہ وارطریقے سے ا سمیں کمی آ رہی تھی تاہم موجودہ مرکزی حکومت نے جموںو کشمیرمیں عسکریت کو صفر فیصدی تک پہنچایا تاہم ا س میں بیک وقت اضافہ ہونا قابل تشویش ہے۔ آئینی کورٹ کے آئنی بینچ کی جانب سے 370کی منسوخی کے خلاف دائرکی گئی عرضیوں کافیصلہ سنانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے ۔سابق وزیراعلی نے کہاچار اگست 2019مرکزی سرکار نے جوفیصلہ کیاوہ غیرآئینی تھا۔370 کوواپس لینے کا جو فیصلہ لیا وہ آئینی اور قانونی طر پرجائز نہیں تھا ۔انہوںنے کہا کہ ہم اُمیدکرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کاآئینی بینچ جموں وکشمیرکے لوگوں کووہ سب کچھ واپس دیاگیاجوان سے چھین لیاگیاہے اسمیں سرکاری نوکریاں زمین دوسرے معاملات ہیں۔ انہوںنے کہاآئینی بینچ کافیصلہ ہرایک شہری کو قابل قبول ہوگا ۔










