dooran

چار دسمبر سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران جموںو کشمیرکی پانچ سمیت بیس بلیں ایوان میں ٹیبل کی جائیگی

بلوں کے پاس ہونے سے جموں وکشمیرکے لوگوں کوراحت ملے گی /نیتا نند را ئے

سرینگر//چار دسمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران بیس بلوں کوایوان میں پیش کیاجائیگاجن میں پانچ بلوں کاتعلق جموں وکشمیرسے بھی ہے موجودہ مرکزی حکومت کایہ پارلیمنٹ کا آخری اجلاس بھی ثابت ہوسکتاہے اور اس پارلیمنٹ اجلاس کوکافی اہمیت حاصل ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق چار دسمبر سے پارلیمنٹ کاخصوصی اجلاس شروع ہونے جارہاہے اوراس اجلاس کے دوران پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے ایوان میںبیس بلوں کوپیش کیاجائیگا اور ان بیس بلوں میں جموں کشمیرکے حوالے سے پانچ بلیں ایوان میں پیش کی جائے گی ۔لوگ سبہا سیکریٹریٹ کے مطابق جموں وکشمیرکے حوالے سے ریزرویشن ترمیمی بل کے علاوہ 1947کے رفیو جیو اور کشمیری پنڈتوں کے لئے اسمبلی میں سیٹیں مختص کرنے کی بل خواتین کو33%ریزرویشن دینے کامطالبہ بھی ایوان میں پیش کیاجائے گی ۔امورداخلہ کے وزیرمملکت نیتانند رائے نے اس بات کی تصدیق کی کہ پانچ اگست 2019کے بعد جموں وکشمیرمیںصورتحال میں کافی بدلاؤ آچکاہے اور چار دسمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ اجلا س کے دوران جموں وکشمیرمیںپانچ اہم بلوں کوایوان میں پیش کیاجائیگا اور ایوان میں ان بلوں کومنظوری ملنے کے بعد جموںو کشمیرمین پہاڑیوں گجروں والمکیی طبقہ اوردوسرے لوگوں کو راحت ملے گی ۔انہوںنے کہاکہ جموںو کشمیر کے مالی اخراجات کوپورا کرنے کے لئے بھی ایوان میں بل پیش ہونے کی اُمید کی جاسکتی ہے تا کہ کوڈآف کنڈکٹ لاگوہونے کے بعدجموںو کشمیرکی انتظامیہ کو مالی مشکلات کاسامناناکرنا پڑے ۔پارلیمنٹ کے چارد سمبرسے شروع ہونے والے ا س اجلاس کے دوران جموںو کشمیرکے مالی وسائل اور مالی ضرورتوں کوپورا کرنے کے خاطر پیش کی جانے والی بل انتہائی اہمیت کے حامل ہوگی۔ جموںو کشمیرانتظامی کونسل نے پہلے ہی تمام امیداروں کو ہدایت کی تھی کہ مالی ضرورتوںکوپور اکرنے لئے اپنی تجویزات فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی نوٹس میں لائے۔ امورداخلہ کے وزیرمملکت کے مطابق جموں وکشمیرمیں ترقیاتی کاموں کوجاری رکھنے او رعوامی مسائل کاازالہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران ہرممکن اقدامات اٹھائے جائینگے ۔انہوںنے کہاکہ جموںو کشمیرکے حوالے سے جو پانچ بلیں ایوان م ںپیش کی جارہی ہے وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہے جسے جموںو کشمیرکے لوگوں کومزید راحت ملے گی اور مرکزی سرکار کی جانب سے لوگوںکے ساتھ دعوے کئے گئے تھے انہیں عملی شکل دینے میں مددملے گی ۔