dooran_look sabha

اگلے سال اپریل مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ

یکم دسمبر کو جموں و کشمیر میں پہلی اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ چیف الیکٹورل آفیسر کی سربراہی میں منعقد ہوگی

سرینگر // اگلے سال اپریل مئی میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں یکم دسمبر کو جموں و کشمیر میں پہلی اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ چیف الیکٹورل آفیسر کی سربراہی میں منعقد ہونی والی ہے جس میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنران اور ایس ایس پیز کے علاوہ دیگر عملہ شرکت کریں گے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق اگلے سال میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے پہلا اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ یکم دسمبر کو چیف الیکٹورل آفیسر پی کے پول کی صدارت میں منعقد ہونی والی ہے جس میں تمام 20 ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ عملی طور پر بات چیت کریں گے۔ اس میٹنگ میں ایس ایس پیز ای وی ایم، وی وی پی اے ٹی کی ضروریات، نوڈل افسروں کی تقرری، ان کی تربیت وغیرہ اور سیکورٹی کی ضروریات پر توجہ دیا جائے گا ۔ یہ چیف الیکٹورل آفیسر کے ذریعہ لوک سبھا انتخابات کے انتظامات کا پہلا اعلیٰ سطحی جائزہ ہوگا جس میں ان کے دفتر کے سینئر افسران اور تمام 20 ڈپٹی کمشنران ، جو ضلع الیکشن افسر کے طور پر کام کرتے ہیں، اور ایس ایس پیز، امیدواروں اور پولنگ بوتھوں کی سیکورٹی کے انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے۔حکام نے بتایا کہ جائزہ میٹنگ میں لوک سبھا انتخابات سے متعلق تمام مسائل پر میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ ڈپٹی کمشنران اور ایس ایس پیز عملے، سیکورٹی اہلکاروں وغیرہ سے متعلق اپنی ضروریات کو پیش کرنے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں پانچ پارلیمانی نشستیں ہیں جن میں جموں،راجوری، ادھم پور،ڈوڈا، سرینگر ،بڈگام، بارہمولہ ،کپواڑہ اور جنوبی کشمیرپونچھ شامل ہیں۔ اس وقت نیشنل کانفرنس کے پاس تین اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پاس دو سیٹیں ہیں۔جموں و کشمیر میں انتخابات پانچ مرحلوں میں ہونے کا امکان ہے اور ہر ایک لوک سبھا سیٹ کیلئے ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوں گے۔ عہدیداروں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ووٹر لوک سبھا انتخابات کیلئے تقریباً 90 لاکھ ہوسکتے ہیں حالانکہ صحیح اعداد و شمار 8 جنوری کو معلوم ہوں گے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا کے حکم کردہ خصوصی سمری نظرثانی کی تکمیل کے بعد حتمی انتخابی فہرستیں شائع کی جائیں گی۔حکام کے مطابق پولنگ بوتھس کی تعداد کو کچھ دیر بعد ضلعی الیکشن افسران کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔