محکمہ کے پاس صحافیوں کی کوئی بھی انجمن درج نہیں ، پنڈت بجھن لال سوپوری آڈٹورئم سے اب تک3لاکھ سے زائد آمدنی حاصل
سرینگر//انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کی ایگریڈیشن کی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے جبکہ محکمہ اطلاعات کے پاس عامل صحافیوں کی کوئی بھی ایسو سی ایشن رجسٹرڈ نہیں ہے۔محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سرکار نے صحافیوں کی ایکریڈیشن کیلئے جس کمیٹی کا قیام عمل میں لایا تھا،اس کی ابتدائی میٹنگ حال ہی میں منعقد ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ کو صحافیوں کی جانب سے ایکریڈیشن کی درخواستیں موصول ہوئیں،جن کی فی الوقت جانچ پڑتال جاری ہے۔سرکار نے گزشتہ برس دسمبر میں میڈیا سے وابستہ افراد کو ایکریڈیشن فراہم کرنے کیلئے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا تھا۔محکمہ اطلاعات کے پبلک انفارمیشن افسر نے حق اطلاعات قانون کی درخواست میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے امسال جنوری سے ستمبر تک کوئی بھی سمینار،ورکشاپ یا تبادلہ خیال کی تقریب منعقد نہیں کی ہے۔ مذکورہ افسر نے مزید بتایا ہے کہ جموں کشمیر میں صحافیوں کی بہبودی اور بہتری کیلئے جاری نہیں ہے اور ناہی فی الوقت مرکزی زیر انتظام خطے میں عامل صحافیوں کی کوئی بھی انجمن محکمہ کے پاس رجسٹر ہے۔پبلک انفارمیشن افسر نے مزید بتایا ہے کہ جموں کشمیر میں سال2019سے ستمبر2023تک کسی بھی صحافی کو کسی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ محکمہ نے پنڈت بجھن لال سوپوری آڈٹورئم سے اب تک3لاکھ45ہزارروپے کی رقم بطور آمدنی وصول کی ہے۔ محکمہ کا مزید کہنا ہے کہ آڈٹورئم کاجو کرایہ ڈائریکوٹرویٹ سطح پر مقرر کرنے کی تجویز دی تھی،اس کو انتظامی محکمہ نے منظوری نہیں دی ہے۔










