اسرائیل ہماس کے درمیان جنگ میں شدت سے ترقی پذیر ممالک متاثرہونے کے امکانات

سارک ممالک سنجیدگی کامظاہراہ کرکے لوگوںکو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدمات اٹھائیں :اقتصادی ماہرین

سرینگر//فلسطین اسرائیل جنگ نے اب شدت اختیار شروع کر دی ہے تیل نکالنے والے ممالک کی تنطیم نے تیل نکالنے میں کمی کااعلان کردیاہے بین الاقوامی بازار میں تیل گیس اور پیٹرول سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میںاضافے کاامکان ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ فی الحال کئی ماہ تک کسی بھی ملک کو تیل کی قلت کاسامنا نہیں کرنا پڑیگا تاہم مہنگائی میںاضافہ ہونے کے امکانات کو خارج نہیں کیاجا سکتا جس سے مختلف ممالک بھارت ،پاکستان ،بنگلہ دیش ،سری لنکا ،نئیپال جیسے ممالک کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑیگا ۔ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سارک ممالک کو سنجیدگی کامظاہراہ کرنا ہوگااپنے اپنے ملکوں میں رہنے والے ملکوں کوراحت دلانے کے لئے اقداما ت اٹھانے چاہئے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق امریکہ اور چین نے اسرائیل ہماس کے مابین جنگ کے بعد اپنے بیری بیڑے خلیج کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیئے ہے اور اسرائیل کی جانب سے لگاتار ہماس پرحملے ہورہے ہے۔22-23اکتوبر کی رات کو اسرائیل نے فلسطین میں کئی اسپتالوں رہائشی مکانوں پربم گرائے تیس سے زیادہ فلسطینی ان حملوں میں مارے گئے ۔ سینکڑوں کی تعدادمیں زخمی ہوئیں۔ اسرائیل کی ا س کارروائی کے بعد ہماس نے بھی حملوں کاسلسلہ شروع کیااور اس طرح فسطین اور ہماس کے مابین جنگ اب شدت اختیار کرتا جارہاہے او ردنیاکے کئی ممالک اب اس میں براہی راست شامل ہوناچاہتے ہیں جس سے ترقی پزیر ممالک کو مشکلوں کاسامنا کرنا پڑیگا ۔خلیج ممالک کی تنظیم اوپیک نے عندیہ دیاکہ وہ تیل نکالنے میں کمی لائے گا جسے بین الوقوامی بازارمیں بے تحاشہ اضافہ ہوگا۔ پیٹرول سے بننے والی مصنوعات مہنگی ہوگی اور اس کابراہی راست اثر غریب ممالک پرپڑیگا۔ماہراقتصادیات نے کہا فی الحال دنیاکے کسی ملک کوایندھن کی کمی کاسامنا نہیںکرنا پڑیگا تاہم بڑھتی ہوئی قیمتوں کوروکناخارج از امکان ہوگا۔ انہوں نے کہا بھارت بنگلہ دیش ،پاکستان ،نئیپال ،شری لنکہ ،بھوٹان سمیت کئی ممالک اس ترقی پزیر ہیں اور ان ممالک میں آبادی کافی بڑھ چکی ہے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسرکرنے والے لوگوں کی تعداد 62%ہے اور اگرتیل اور پیٹرول سے بنائی جانے والی مصنوعات میں اضافہ ہوا اس کالازمی اثر عام زندگی پرپڑیگا ۔ماہراقتصادیات کے مطابق پاکستان ،شری لنکہ ،نئیپال م،بھوٹان ایسے ممالک ہیں جوبہت زیاہ مٹاثر ہونگے۔ بھارت بھی ا سے بچ نہیں پائیگا بنگلہ دیش کی جی ڈی پی حد سے زیادہ متاثر ہوگی ۔ماہراقتصادیات نے سارک ممالک کوخبر دار کرتے ہوئے کہا وہ خلیج کی جنگ میں شدت آنے سے پہلے اپنے اپنے ممالک میں لوگوں کوراحت دلانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ ماہرین کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء عام انسان کی قوت خرید سے باہرہوگی ملبوسات زیورت الیکٹرنک سامان ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا اورریل کرایہ بڑھنے کے امکانات ہے مسافربردار بسوں میں سفرکرنے والے لوگوں کومشکلوں کاسامنا کرنا پڑیگا ادویات مہنگی ہوگی اور سارک ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کاسنجیدہ نوٹس لے اور ا س بات کویقینی بنائے کہ ان کے ممالک میں ادویات غذائی اجناس کاوافر سٹاک موجود ہے ان کے ڈنمپوں میں تیل موجود ہے اور انہیں کسی مشکل کاسامناناکرنا پڑے ۔دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائل اور ہماس کے مابین جنگ کئی ماہ تک جاری رہنے کے امکانات موجود ہے او راس اگراس طرح کی کوئی صورتحال پیش آئے ا سے ترقی پزیرممالک حد سے زیادہ متاثرہونگے۔ یوکرین، روس جنگ نے پہلے ہی جنوبی اشیاء کے کئی ممالک میں صورتحال تشویش ناک بنادی ہے، جبکہ یورپی ممالک میں لوگوں کوکافی دقتوں کاسامنا کرنا پڑ رہاہیں ۔اقتصادی ماہرین کے مطابق صورتحال دن بدن بد سے بد تورہوتی جارہی ہے او راگر ا صورتحال کوقابوکرنے لئے پالسی سازوں نے منصوبوں کی طر ف حکومت کی ترغیب نہیں دی تو اسکے بھیانک نتائج سامنے آئینگے اور لوگوں کی بڑی تعدا دغذائی اجناس کی عدم دستیابی ادویات کی کمی کے باعث ماری جائے گی ۔