hydroelectricity

پن بجلی کی پیداوارمیں خاطرخواہ اضافہ بھاری مالی خسارے اورصارفین پر بھاری بجلی فیس کے بوجھ کوکم کرنے کاواحدعلاج

اگلے3سالوں میں پن بجلی کی موجودہ پیداوار3500میگاواٹ کو5پروجیکٹ مکمل کرکے دوگنا کرنے کاحکومتی ہدف

سری نگر//آبی وسائل اورذخائر سے مالامال جموں وکشمیرمیں بجلی بحران کاہونا حیران کن ہے ،کیونکہ ماہرین کہتے ہیں کہ یہاں کم وبیش30ہزار میگاواٹ بجلی پیداکی جاسکتی ہے ۔ آج تک جموں وکشمیرمیں جتنے بھی بڑے پن بجلی پروجیکٹ بنائے گئے ،جن سے ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوتی ہے ،لیکن ان بڑے پائور پروجیکٹوںکا جموں وکشمیر کے لوگوںکو بجلی بہم ہونے کے معاملے میں کوئی فایدہ نہیں ہوتاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کویہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسمارٹ میٹروںکی تنصیب کوناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر کیلئے بجلی کے قرض کے بل پچھلے چار سالوںمیں 31000کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں ۔مطلب بجلی سپلائی پرآنے والے اخراجات اور بجلی فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں واضح فرق موجود ہے اوراس خسارے کوکم کرنے کیلئے حکومت نے پورے جموں وکشمیرمیں اسمارٹ میٹر نصب کرکے صارفین کو بجلی استعمال کرنے کے معاملے میں کفایت شعاراور اسکے ناجائز اورغیرضروری وغیرقانونی استعمال پرجواب دہ بنانے کافیصلہ کیاہے ۔ماہرین وجانکار کہتے ہیں کہ بجلی کی خریداری جموں و کشمیر کے مالی وسائل کو ختم کر رہی ہے کیونکہ نو تشکیل شدہ یونین ٹریٹری نے بجلی کی بیرونی سہولیات سے بجلی کی خریداری پرگزشتہ 3برسوں میں18ہزار400کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کئے ہیں۔جموں و کشمیر باہر کی بجلی کی فراہمی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، خاص طور پر نیشنل گرڈ جو یونین ٹریٹری کو بجلی فراہم کرتا ہے کیونکہ سرکاری پاور پلانٹس کی مقامی پیداوار بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق،مالی سال2018-19 میں جموں و کشمیر نے بجلی پر6058 کروڑ روپے خرچ کیے، 2019-20میں بجلی کی خریداری کے بل بڑھ کر 6072کروڑ روپے ہو گئے اور 2020-21 میں بجلی کی خریداری پر6317 کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔تاہم بجلی کے محکمے کے افسران کے مطابق، جموں و کشمیر بجلی کی خریداری پر سالانہ 6300 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود صارفین سے وصول کئیجانے والے ٹیرف یعنی ماہانہ بجلی فیس کے حساب سے اس کی آمدنی صرف 2600 کروڑ روپے ہے ۔2019 سے2021تک کے 3 سالوں میں بجلی کی خریداری پر کل 18ہزار447 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔محکمہ پی ڈی ڈی کے ذرائع کہتے ہیں کہ محکمہ ھٰذاکو درپیش ریونیو خسارہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ براہ راست نقصانات سے منسلک ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ہر سال6300 کروڑ روپے سے زیادہ کی بجلی خرید رہے ہیں، لیکن آمدنی کے طور پر صرف 2600 کروڑ روپے کما پا رہے ہیں۔ اگرچہ بجلی کی خریداری اور محصولات کی وصولی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن اسے عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہیں چوری سے باز آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ا سمارٹ میٹروں کی تنصیب شروع کر دی ہے۔اوراس اقدام سے خسارے اورنقصانات کوکافی کم کیا جاسکتا ہے ۔KPDCLاورJPDCLنے بجلی کے نرخوں یعنی بجلی فیس میں اضافے کی تجویز کے لیے مشترکہ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن سے منظوری حاصل کی ہے ،اوراس منظوری کے تحت صارفین کے ماہانہ بجلی فیس میں13فیصد سے زیادہ اضافہ کیاگیاہے ۔جموں و کشمیر حکومت نے اگلے3 سالوں میں ہائیڈرو پاور جنریشن کی موجودہ3500 میگاواٹ صلاحیت سے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اس سمت میں، 5 میگا ہائیڈرو پاور پرجیکٹوں جیسے رتلے (824 میگاواٹ)، کیرتھائیII(930میگاواٹ) سوالا کوٹ (1856 میگاواٹ)، دلہستی اسٹیج II(258 میگاواٹ) اور اوڑیII اسٹیج (240 میگاواٹ)NHPC کے تعاون سے 4134 میگاواٹ کی کْل صلاحیت کا کام لیا گیا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں ممکنہ سرمایہ کاری 34882 کروڑ روپے ہے اور اس کی تکمیل سے جموں و کشمیر بجلی سرپلس ہو جائے گی۔جاری ہائیڈرئو بجلی پروجیکٹ یعنی کیرو (624 میگاواٹ)، کاوار (540 میگاواٹ) اور پاکلڈول (1000 میگاواٹ) کو مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔ 2022-23تک، ان منصوبوں کے بڑے سول اور الیکٹرو مکینیکل کام مکمل ہو جائیں گے۔