مشیر راجیو رائے بھٹناگر کا سری نگر میں نار درن ریجنل ریویو میٹنگ۔ آشمان سنگم سے خطاب

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے آج آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ( اے بی۔پی ایم جے اے وائی ) کی مؤثر عمل آوری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلیگ شپ سکیم معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقوں کو صحت کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔اِن باتوں کا اظہار مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے آج یہاں ہوٹل ریڈیسن بلو میں دو روزہ نار درن ریجنل ریویو میٹنگ۔ آشمان سنگم کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مرکزی نیشنل ہیلتھ اَتھارٹی اور سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی جے اینڈ کے کے زیر اہتمام میٹنگ کا مقصد شمالی خطے میں اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی سکیم کی عمل آوری کو بڑھانا ہے۔ میٹنگ میں ماضی میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور سکیم کے آسانی سے عمل آوری کے لئے مستقبل کاروڈ میپ بھی تیار کیا گیا۔سی اِی او این ایچ اے ایس گوپال کرشنن ، ایڈیشنل سی اِی او این ایچ اے ڈاکٹر بسنت گرگ ، سیکرٹری صحت و طبی تعلیم جموںوکشمیر بھوپندر کمار، سی اِی او ایس ایچ اے جموںوکشمیر سنجیو ایم گڈکر ، سات شمالی ریاستوں اور پنجاب ، ہریانہ ، پ،ہماچل پردیش ، اُترا کھنڈ ، چندی گڈھ اور لداخ کے سی اِی او اور نمائندے موجود تھے۔مشیر موصوف نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی قیادت میں اور مرکزی حکومت کی حمایت میںحکومت جموںوکشمیر نے اے بی۔ پی ایم جے اے وائی سکیم کو عالمگیر بنایا اور جموںوکشمیر کے تمام شہریوں کو اِس سکیم کے تحت لایا گیا ہے۔اِس موقعہ پر مشیر موصوف نے سرکاری ہسپتالوں کے بہترین اِستعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کی اُمنگوں پر پورا اُترنے کے لئے ہسپتالوں کا اِنتظام بہت ضروری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے اَپنے خطاب میں اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی کی عمل میں شامل تمام شراکت داروں کی کوششوں کی سراہنا کی اور اس کے ملک کے بے شمار اَفراد کی زندگی پر پڑنے والے مثبت اَثرات کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے حکومت صحت خدمات فراہم کرنے والوں اور اِنشورنس ایجنسیوں کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرور ت پر زور دیا تاکہ سکیم کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ بنایا جاسکے اور معاشرے کے دُور دراز علاقوں تک اس کی رسائی کو بڑھایاجا سکے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل اِنفراسٹرکچر جموںوکشمیر میں قابل ذِکر ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے کیوں کہ یہاں جدید ترقین اَدویات قائم کی جارہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر میں دو ایمز ، کینسر اِنسٹی چیوٹ ، سات نئے میڈیکل کالج اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچہ بنائے گئے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔اِس موقعہ پر این ایچ اے کے سی اِی او نے کہا کہ اے بی۔ پی ایم جے اے وائی کے مؤثر نفاذ کے لئے ہسپتالوں کی فہرست سازی بہت اہم ہے ۔ اُنہوں نے ریاستوں اور یوٹیز کے نمائندوں کو اَدائیگیوں کا بروقت تصفیہ کرنے پر زور دیا تاکہ لوگ اِس سکیم کا صحیح فائدہ اُٹھا سکیں۔میٹنگ میں این ایچ اے کے ایڈیشنل سی اِی او نے اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی سکیم کی عمل آوری میں شمالی ریاستوں اور یوٹیز کی طرف سے حاصل کی گئی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ناردرن ریجنل ریویو میٹنگ ۔ آیوشمان سنگم نے فعال شرکت کا مشاہدہ کیا جس میں نمائندے اور افسروں اہم موضوعات پر نتیجہ خیز بات چیت میں مصروف تھے جس میںسکیم کے بارے میں بیداری میں اضافہ، دعووں کے عمل کو ہموار کرنا، صحت کی معیاری فراہمی کو یقینی بنانا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دینا شامل ہیں۔