پہلی مرتبہ کسی عبادتگاہ میں داخل ہونے کیلئے ’ڈریس کوڈ‘

کالی مندر جموںکے گیٹ پر ایک نوٹس چسپاں

سری نگر//جموں وکشمیرمیں پہلی مرتبہ کسی عبادتگاہ میں داخل ہونے کیلئے ’مخصوص ڈریس کوڈ‘لاگو کیاگیاہے ۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق جموں شہر میں پہلی بار ایسا قاعدہ بناتے ہوئے باہو قلعہ کے علاقے میں واقع اس کالی مندر کے گیٹ پر ایک نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ نوٹس میں عقیدت مندوں سے مندر کے احاطے میں داخل ہونے سے پہلے مہذب کپڑے پہننے اور اپنا سر ڈھانپنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہاف پینٹ، برمودا شارٹس، منی اسکرٹس، نائٹ سوٹ، پھٹی ہوئی جینز اور کیپری پینٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چیف پجاری مہنت بٹا نے میڈیاکو بتایا کہ یہ کوئی حکم نہیں بلکہ مشورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر میں آنے والے تمام عقیدت مندوں سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔ چیف پجاری مہنت بٹا نے کہا کہ لوگوں نے مندر کو پکنک اسپاٹ بنا دیا ہے اور اسی کے پیش نظر ایسا قدم اٹھایا گیا ہے۔مندر انتظامیہ کے فیصلے پر ملی جلی رائے سامنے آرہی ہے ۔اتر پردیش سے آئے ہوئے بھکت دھننجے پاٹل نے کہاکہ ہندئو رسومات کے احیاء کیلئے یہ ایک اچھا قدم ہے۔ایک اور عقیدت مند منمیت کور نے کہاکہ میں فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہوں۔ اس حکم کو مکمل طور پر لاگو کیا جانا چاہئے۔ جے اینڈ کے چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیئرمین بریگیڈیئر آر ایس لانگے (ریٹائرڈ) نے کہاکہ اگر دوسرے مندر بھی ایسا ہی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تو اس معاملے پر بات ہونی چاہئے۔ڈریس کوڈ نافذ ہونے سے غیر ملکی کیسے جائیں گے؟۔انہوں نے اس بات پر زور دیا اور کہا کہ ہمارے پاس کشمیر میں ایسے مندر ہیں جہاں ہر روز بڑی تعداد میں غیر ملکی درشن کیلئے آتے ہیں۔ ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کا مطلب اُنہیں یعنی غیر ملکیوں کو درشن کے موقع سے محروم کرنا ہوگا۔