ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے جموں وکشمیر میں سکل ڈیولپمنٹ کے اَقدامات کیلئےرِپورٹوں اور منصوبوں کو جاری کیا

سری نگر//پرنسپل سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے سول سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب میں کئی اہم رپورٹوں اور منصوبوںکوجاری کیا۔جاری کردہ رِپورٹوں میں اہم دستاویزات شامل ہیں جن کا مقصد خطے میں سکل ڈیولپمنٹ کے پروگراموں کے معیاراور تاثیر کو بڑھانا ہے۔ڈاکٹر اَصغر حسن سامون کی طرف سے جاری کردہ رِپورٹوں میں سے ایک جموںوکشمیر میں پولی تکنیک اور آئی ٹی آئی ( صنعتی تربیتی اِداروں ) کے ذریعے پیش کردہ کورسوں کا جامع جائزہ تھا۔یہ رِپورٹ پرائس واٹر ہائوس کوپرز( پی ڈبلیو سی ) کی طرف سے تیار کردہ اور 479 صفحات پر مشتمل وسیع پیمانے پر موجودہ روزگار کے منظر نامے کی تلاش کرتی ہے اور سکل ڈیولپمنٹ شعبے میں جامع اِصلاحات کے لئے کلیدی نتائج ، سفارشات اور تجاویز پیش کرتی ہے۔پرنسپل سیکرٹری نے پی ڈبلیو سی کی رِپورٹ کے علاوہ جموںوکشمیر کے تمام 20اَضلاع کے لئے ضلع ترقیاتی منصوبوں کی بھی نقاب کشائی کی۔یہ منصوبے سٹریٹجک اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کا خاکہ پیش کرتے ہیں جو مقامی سطح پر مہارتوں میں اِضافہ ، اَنٹرپرینیور شپ اور اِقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ضلعی ترقیاتی منصوبے پورے علاقے میں جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے محکمے کی کوششوں کا ایک اہم جُز ہیں۔دورانِ تقریب پرنسپل سیکرٹری نے فوڈ کرافٹ اِنسٹی چیوٹ جموں کا ایک کتابچہ بھی جاری کیا جس میں باجرے کی اہمیت اور فوائد پر توجہ دی گئی تھی ۔ یہ کتابچہ باجرے کی کھپت او رکاشت کو فروغ دینے ، ان کی غذائیت کی اہمیت اور دیر پا زراعت میں شراکت کو اُجاگر کرنے کے لئے ایک قیمتی وسیلہ کے طورپر کام کرتا ہے۔اُنہوں نے ‘‘ مہارت ‘‘ کا باضابطہ طور پر آغاز کیا جو بالخصوص جموں و کشمیر میں خواتین کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہنر مندانہ اقدام ہے ۔ اُنہوں نے اَپنے خطاب میں اِس بات پر زور دیا کہ اِس برس کا ہدف 50,000 خواتین کو مختلف ہنر فراہم کرنا ہے جس سے انہیں بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ دیرپا روزی روٹی کما سکیں ۔ ’’ مہارت ‘‘ پروگرام کا مقصد خواتین کو ان کا روزگاراور معاشی آزادی کو بڑھانے کے لئے ضروری تربیت اور مدد فراہم کرنا ہے۔اِس موقعہ پر ڈاکٹر اَصغر حسن سامون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاری کردہ رِپورٹ اور اقدامات سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جموںوکشمیر میں ہنر میں اِضافہ ، اِقتصادی ترقی اور صنفی بااختیار بنانے کی جاری کوششوں میں اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتے ہیں۔