پڑوسی ملک ہمارے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنارہا ہے

منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لیے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری: ایل جی سنہا

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ منشیات کے خاتمہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہمارے پڑوسی ملک کی جانب سے یہاں کے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے لیکن ہمیں ملک کر اس بدعت کو ختم کرنا ہوگا۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو کہا کہ یہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نوجوانوں کی بازآبادکاری کریں جو پڑوسی ملک کی طرف سے رچی گئی منشیات کی لت کی سازش کا شکار ہو چکے ہیں۔سی این آئی کے مطابق ایل جی یہاں منعقدہ ’پیڈل فار پیس‘ ایونٹ میں حصہ لینے والے سائیکل سواروں سے خطاب کر رہے تھے۔’’ہمارے پڑوسی ملک کی سازش کی وجہ سے بہت سے نوجوان منشیات کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ سماج کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں دلدل سے نکالے اور ان کے خوابوں کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کرے۔انہوں نے کہا، ’’میری آپ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ منشیات کے خلاف اس مہم کی قیادت کریں۔’’مجھے جموں و کشمیر کی نئی نسل پر فخر ہے جو اس تبدیلی کو امن اور ترقی کی طرف لے جا رہی ہے۔ کوئی طاقت آپ کو ترقی کی نئی بلندیوں کو چھونے سے نہیں روک سکتی اگر آپ بہترین کارکردگی کا عزم رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر پولیس اپنے شہری ایکشن پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ہنر کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہی ہے۔’’اس میں کوئی شک نہیں کہ کوششوں کا ثمر آنا شروع ہو گیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ 2020 میں پیڈل فار پیس میں 516 سائیکل سوار تھے، آج 2500 ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ملک میں ترقی کی روشن مثال بن رہے ہیں۔جس طرح وہ مختلف شعبوں میں یونین کے زیر انتظام علاقے کو تبدیل کرنے کے لیے اپنی توانائیاں بروئے کار لا رہے ہیں، پورا ملک ان پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ ہماری لڑکیاں مختلف شعبوں میں نئے ریکارڈ بنا رہی ہیں۔ میں کل IUST کانووکیشن میں تھا۔ طلائی تمغہ جیتنے والوں میں سے 63 فیصد لڑکیاں تھیں۔