سری نگر کے میوزیم میں جاری مصوری کیمپ میں مقامی اور مہمان مصور وادی کے حسین مناظر کو کینواس پر اُتارنے میں محو
سری نگر//شری پرتاپ سنگھ ( ایس پی ایس ) میوزیم میں جاری غیر معمولی مصوری کیمپ میں آج دوسرے دِن بھی جموں وکشمیر اور دیگر ریاستوں سے آئے آرٹسٹ اَپنی خدا داد صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کی خوبصورتی کو زیب قرطاس کرنے میں محور ہے ۔ یہ کیمپ شمالی زون کلچر سینٹر اور جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی کے باہمی اِشتراک سے مصور ی کیمپ کا اِنعقاد کیا گیا ہے۔23؍ جون تک جاری رہنے والے یہ مصوری کیمپ اُن پیشگی تقریبات کا ایک حصہ ہے جو’’ وتستا کلچرل فیسٹول ‘‘ کے سلسلے میں فی الوقت وادی کے مختلف علاقوں میں منعقد ہو رہی ہیں ۔ یہ سہ روزہ کلیدی فیسٹول سری نگر کے شیرِ کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں 23؍ جون سے شروع ہو رہا ہے ۔کیمپ میں تخلیق کئے جانے والی پینٹنگوں کی نمائش بھی اِسی دِن ہوگی۔اِس کیمپ میں’’ کشمیر کی خوبصورتی ‘‘ کے عنوان سے پینٹنگ جموں وکشمیر کے مصوروں کے علاوہ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان جیسے مقامات کے 16فن کار شرکت کر رہے ہیں۔کیمپ میں ممتاز و معروف مصور کمل نین بھان بھی شامل ہیں جو آج 33برس بعد پہلی بار وادی لوٹے ہیں۔ وہ بی دیگر لاکھوں کشمیر ی پنڈوں کی طرح1991ء کے اوائل میں وادی میں تشدد بھڑک اُٹھنے کے بعد مائیگریشن کر گئے تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ فنِ مصوری سے اُن کی بے پناہ محبت آج اُنہیں یہاں کھینچ کر لائی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ میں وادی میں پیدا ہوا ہوں او ریہاں ہی میری پرورش ہوئی ہے ۔ مجھے سال 1991ء میں اَپنی جائے پیدائش چھوڑنی پڑی تھی ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ میری فن کارانہ صلاحیتوں کی جڑیں اس سرزمین میں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا جنون مجھے آج تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد یہاں کھینچ لایا ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا ،’’ ایک فن کار کا اَپنے فن سے تعلق اَٹوٹ ہوتا ہے ۔ عمر یا جسمانی معذوری سے قطع نظر کسی بھی فنکار کے تخلیقی جذبے کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ میں اَپنی زندگی کی باسٹھ بہاریں دیکھ چُکا ہوں لیکن آج بھی مصوری کے فن کے تئیں میرے جذبات جوان ہیں اور میں خاص طور سے ورچیول آرٹ کا شیدائی ہوں۔‘‘










