’’ عوام کی آواز ‘‘ لوگوں کے تخلیقی خیالات کو حقیقت میں بدل رہا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا

یہ جموں وکشمیر کیلئے سنہری دور ہے ۔ پورے سماج کو ایک ہو کر بننا چاہیے اور امرت کال میں اَپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ریڈیو ماہانہ پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘ میں حکومت میں شہریوں کی شرکت کی حوصلہ اَفزائی کرنے اور قوم کی تعمیر کے لئے عزم کے ساتھ کام کرنے کے لئے حکومت جموںوکشمیر یوٹی کی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’ عوام کی آواز لوگوں کے تخلیقی خیالات کو حقیقت میں بدل رہا ہے ۔ اگر ہماری سوچ او رسب کی خوشحالی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے مقصد کے گہرے احساس میں تبدیلی آئے تو جدید معاشرے کی ترقی کو کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ سماجی ترقی ، اِنسانی بہبود ، قومی تعمیر ہر فرد کی اوّلین ترجیح بن جائے ۔ یہ جموںوکشمیر کے لئے سنہری دور ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پورے معاشرے کو ایک ذہن اور ایک جان بننا چاہئے اور اَمرت کال میں اَپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر آگے بڑھنا ہے اور جموںوکشمیر کی ہمہ گیر ترقی کی راہ میں حائل ہر رُکاوٹ کو دور کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں جموںوکشمیر کو پیچھے رکھنے والے عناسر کو الگ تھلگ کرنے کی ضرور ت ہے تاکہ سماج کی تخلیقی قوتیں ہندوستان کو دُنیا کا نیا اِقتصادی پاور ہائوس بنانے کے مشترکہ مقصد کے لئے ایک مربوط گروپ کے طور پر کام کرسکیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین اور گرین واریئروں کی متاثر کن کامیابیوں کی داستانوں کا اِشتراک کرتے ہوئے سوپور کی مفار ا مجید کی سولر اَنرجی سے چلنے والی کشتی بنانے کی کوشش ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور سبز ترقی کو فروغ دینے کے لئے ان کی لگن کی تعریف کی ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ اِنفرادی چھوٹے اقدامات دیرپا ترقی کے سفر میں بڑی تبدیلیاں لائیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ خواتین معاشرے کی سب سے مثالی معمار ہیں ۔ اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ ان کا مضبوط عزم ، ہمت اور صلاحیتیں قوم اور معاشرے کی ترقی کے لئے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر کام کرتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ رِیاسی کے کھیرل گائوں کی خواتین نے ضلع اِنتظامیہ ، جے کے آر ایل ایم اور جے اینڈ کے ٹوراِزم کے ساتھ مل کر ڈگر دھانی سیلف ہیلپ گروپ تشکیل دیا ہے اور ان کی کامیابی جموںوکشمیر کی سماجی و اِقتصادی ترقی اور خواتین کو بااِختیار بنانے کا ایک اَچھا اِشارہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ بڈگام کے سیّددرخشاں طاقت اور ہمت کا مظہر ہیں ۔ اُنہوںنے مزیدکہا کہ 10رُکنی خواتین کے خود مدد کاریگروں کے گروپ کی سربراہ کے طورپر وہ اِختراعی ڈیزائن ، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ سے کامیابی کی داستان رقم کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس عالمی مارکیٹ میں اَپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اُنہوں نے رورل لائیو لی ہڈ مشن ، ضلعی اِنتظامیہ ، جموںوکشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن ، اِنڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ اور تمام شراکت داروں کو مربوط اَنداز میں کوششیں کرنے کی ہدایت دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے پیرا آرچرشیتل دیوی کا بھی خصوصی ذِکر کیا۔ وہ ایک حقیقی چمپئن اور دوسروں کے لئے ایک تحریک ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پیرا آرچری ورلڈ رینکنگ ٹورنا منٹ میں اِس کی کامیابی نے نوجوانوں کو نئے خواب اور خواہشات اور جموںوکشمیر یوٹی کو طاقت دی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر یوٹی میں آبی ذخائر کے تحفظ ، بحالی اور تحفظ میں جموںوکشمیر کی پنچایتوں کے نمایاں تعاون کی ستائش کی۔اُنہوں نے کہا ،’’ مشن امرت سروور کو جموںوکشمیر کی تمام پنچایتوں میں بہتر ردِّ عمل دیکھنے کو ملا ہے اوریہ آبی ذخائر کو بحال کرنے کے ہمارے پختہ عزم کا بھی ثبوت ہے ۔ یہ جموںوکشمیر کے دوبارہ سر اُٹھانے اور جن بھاگیداری کی طاقت کی علامت ہے۔‘‘اُنہوں نے تمام پنچایتوں پر زور دیا کہ وہ سب سے خوبصورت اَمرت سروور کی تعمیر کے لئے صحت مند مقابلے میں حصہ لیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ’’ مائی گو جے اینڈ کے‘‘ پر آن لائن ووٹنگ کے ذریعے یوم آزادی کے موقعہ پر تین نمایاں پنچایتوں کا اِنتخاب کیا جانا چاہئے اور اُنہیں اعزاز سے نوازا جانا چاہئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو گذشتہ ماہ جی ۔20 میٹنگ کے کامیاب اِنعقاد پر مبارک باد دی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بالخصوص نوجوانوں کی طرف سے سیاحت کے فروغ کے حوالے سے زبردست ردِّعمل ملا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے بڈگام کی عارفہ آرا، اننت ناگ سے جاوید احمد اور کشتواڑ کے ابھیشیک شرما کا خصوصی تذکرہ کیا جو ماحول دوست مصنوعات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرنے اور مارکیٹ میں پلاسٹک کے متبادل جیسے جوٹ بیگوں ، کارن سٹارچ بیگوں ، ممتاز سیاحتی مقامات پر جسمانی طور خاص اَفراد کے لئے سہولیات کو مضبوط بنانا ، مہم جو سیاحت اور آبی کھیلوں کوفروغ دینے کے حوالے سے ان کی قیمتی تجاویزکو خصو صی طور ذِکر کیا ہیں۔ اُنہوں نے اِننت ناگ کے شاہد حسین راتھر ، بڈگام سے مشتاق احمد وانی اور ڈوڈہ سے ابرار میر سے ماہی گیری شعبے میں اِصلاحات اور سیاحت پر اس کے اثرات ، ماحولیاتی سیاحت کے فروغ اور عام اَدویات سے متعلق معلومات بھی شیئر کیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے یکم جولائی سے شروع ہونے والی شری اَمرناتھ جی یاترا کی تیاریوں پر بات کرتے ہوئے ہر شہری کی فعال شرکت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا ،’’ یہ یاترا اِنسانیت کی فلاح و بہبود ، سماجی کے تمام طبقات کی ترقی اور نئے خیالات کے تبادلے کی علامت بھی ہے ۔ مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع بھی اِس یاترا سے جُڑے ہوئے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عرصہ دراز سے پورا معاشرہ تمام طبقوں کے پیروکار ، ملک کے مختلف حصوں سے عقیدت مندوں کے اِستقبال کے لئے اِکٹھے ہوتے ہیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام شہریوں کی فعال شرکت یقینی طور پر اِس برس کی یاترا اور ثقافت اور روحانیت کے تہوار کو کامیاب بنائے گی۔اُنہوں نے تعلیمی اِداروں ، آرگنائزیشنوں ، سرکردہ شخصیات اور تمام شراکت داروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ معاشرے کے ہر طبقے کو یوگا کے فوائد سے آگاہ کریں اور یوگا کو اَپنی زندگی کے اَندرونی حصے کے طور پر اَپنانے کی ترغیب دیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ اِس یوگا ڈے پر آئیے ہم سماج اور دُنیا کے ساتھ یگانگت کے احساس کو منائیں۔ یوگا دماغ اور جسم کے صحت مند ، تنائو سے پاک رکھنے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں متوازن اور خوشحال زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔‘‘