بنگلہ دیش: صحافی کے قتل کے الزام میں سیاستدان گرفتار

بنگلہ دیش کی پولیس نے ایک ایسے سیاست دان کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اُس صحافی کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ہے جس نے سیاست دان کے خاندان کے بارے میں خبریں لکھی تھیں۔مانیٹرنگ کے مطابق ملک کی ایلیٹ ریپڈ ایکشن بٹالین (راب) نے ایک بیان میں کہا کہ محمود العالم بابو کو ملک گیر تلاش کے بعد بھارتی سرحد کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔50 سالہ سیاستدان پر بدھ کے روز غلام ربانی ندیم کے قتل کا انتظام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جنہیں ضلع جمال پور میں ان کے گھر کے قریب مردوں کے ایک گینگ نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔مقامی پولیس کے سربراہ سہیل رانا نے کہا کہ محمود العالم بابو اپنی حالیہ طلاق کے بعد ایک بچے کی تحویل کے تنازع پر سلسلہ وار خبروں کا بدلہ لے رہے تھے، ’وہ صحافی کے قتل میں نمبر ایک ملزم ہیں‘۔پولیس سربراہ نے مزید کہا کہ ’ایک صحافی نے انہیں جائے واردات پر دیکھا تھا جہاں غلام ربانی ندیم کو مردوں کے ایک گروپ نے مارا پیٹا تھا‘۔سہیل رانا نے کہا کہ محمود العالم بابو وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکمران عوامی لیگ کے مقامی ونگ کے جنرل سیکریٹری ہیں۔پارٹی نے انہیں قتل میں ایک مشتبہ نامزد کیے جانے کے فوراً بعد نکالنے کا اعلان کیا۔پولیس سربراہ نے کہا کہ قتل کے الزام میں 6 دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔مقامی پریس کلب کے صدر شاہین الامین نے کہا کہ محمود العالم بابو، صحافی کی جانب سے اپنے خاندانی جھگڑے کی ’وسیع کوریج‘ سے ناراض تھے۔شاہین الامین نے کہا کہ ملزم نے رپورٹر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا لیکن ایک عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی۔اس کے اگلے روز غلام ربانی ندیم پر محمود العالم بابو کے لوگوں نے حملہ کیا اور ان کے سر پر اینٹ ماری گئی، صحافی کی موت اندرونی طور پر خون بہنے کی وجہ سے ہوئی۔قتل کے بعد صحافیوں نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے اپنے 2023 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بنگلہ دیش کو 180 ممالک میں سے 163ویں نمبر پر رکھا ہے۔بنگلہ دیش کے ذرائع ابلاغ کے صحافیوں پر حکومت اور حسینہ واجد کی حکمران جماعت کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔مارچ میں ملک کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر اور ایک رپورٹر پر ایک متنازع ڈیجیٹل سیکیورٹی قانون کے تحت خوراک کی زیادہ قیمت پر مضمون لکھنے پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔حکام نے فروری میں حزب اختلاف کے واحد ترجمان اخبار کو یہ کہتے ہوئے بند کر دیا تھا کہ اس نے پریس قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔