جموں و کشمیر میں پی ایم جے اے وائی صحت اسکیم کے تحت 98.10 فیصد خاندانوں کا احاطہ کیا گیا ہے

سرینگر//مہتواکانکشی’ اے بی پی ایم جے اے وائی ۔ صحت ‘ وارڈ نمبر 7کٹھوعہ کے ایک بیمار 65 سالہ آنچل داس کیلئے نجات دہندہ ثابت ہوئی ہے جب اس نے انتہائی آسان طریقے سے بغیر کسی پریشانی کے علاج کروانے کا خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا ۔ مسٹر داس نے اپنی ساری زندگی اپنے 7 افراد پر مشتمل خاندان کا پیٹ پالنے کیلئے سخت محنت کی لیکن جب ڈاکٹروں نے اسے Ureter(PCNL) سرجری کا مشورہ دیا تو حالات خراب ہو گئے ۔ اس کی دنیا بکھر گئی ۔ 8000روپے کی معمولی ماہانہ آمدنی کی وجہ سے اپنے لئے عیش و آرام کی بچت کرتے ہوئے مسٹر داس مہینے میں صرف چند سو روپے بچا سکتے تھے ۔ مسٹر داس اپنی سرجری اور اس کے بعد کے علاج کیلئے 58000 روپے کا انتظام کرنے کے محض سوچ پر ہی ٹوٹ گیا تھا ۔ لیکن اے بی پی ایم جے اے وائی ۔ صحت ایک نجات دہندہ کے طور پر آنے کے ساتھ مایوسی امید میں بدل گئی ۔ مسٹر داس نے اس تاریخی اقدام کیلئے جموں و کشمیر انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا صحت کی اسکیم اس وقت لائف بوسٹر کے طور پر سامنے آئی جب میرا ایک ہسپتال میں مفت اور بڑی نگہداشت کے ساتھ علاج کیا گیا ۔ اسی طرح عبدالرزاق ڈار کے خاندان کے پانچ افراد اپنی تمام ضروریات کیلئے مکمل طور پر ان پر منحصر تھے ۔ پچھلے آٹھ برسوں سے وہ گھٹنے کے درد کی وجہ سے اپنے روز مرہ کے کام کرنے میں مشکل وقت سے گذر رہے تھے ۔ 50000روپے کی معمولی سالانہ آمدنی کے ساتھ ڈار نے شاید ہی کسی مناسب علاج کے بارے میں سوچا ہو اور ان کی حالت ہر گذرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جا رہی تھی ۔ آخر کار آٹھ سال کی تکلیف اور انتظار کے بعد ڈار نے اے بی پی ایم جے اے وائی ۔ صحت اسکیم کے تحت ایک پرائیویٹ ہسپتال میں اپنا گھٹنا تبدیل کرایا جو ان کیلئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کو ایک صحت مند ملک کے طور پر ترقی دینے کے اپنے عہد میں اس مہتواکانکشی آیوشمان بھارت پی ایم جے اے وائی اسکیم کا آغاز 26 دسمبر 2020 کو کیا ۔