تکنیکی صلاحیتوں سے چلنے والی انسانی اقدار مستقبل میں کاروبار کو بدل دیں گی:منوج سنہا
سری نگر//جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ’تجسس، علم اور عمل کو تقدیرسازی کے 3عناصر‘سے تعبیر کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہاکہ تکنیکی صلاحیتوں سے چلنے والی انسانی اقدار مستقبل میں کاروبار کو بدل دیں گی۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹIIM، جموں کے چھٹے کنووکیشن کی تقریب کے دوران طلباء وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آئی آئی ایم جموں ایک رہنمائی کرنے والے ادارے کا کردار ادا کر رہا ہے اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بہت زیادہ حصہ ڈال رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان عالمی افق پر ایک نئی علمی معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے اور یہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہاکاکہناتھاکہ ہر شعبے میں تبدیلی کا کام قوم کوبھارت کو پاور ہاؤس بننے کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔منوج سنہا نے اپنے خطاب میں کہاکہ کسی کے دل میں خواب بنانا اس دنیا میں کسی بھی جسمانی ساخت کی تعمیر سے بڑا ہے۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے ساتھ ہی کہاکہ نوجوان ذہنوں کے لئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ اپنے خیالات کو حقیقت میں بدلیں اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کریں جو ہمارے شاندار ماضی کی گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنر نے کہاکہ آج کا نوجوان ہندوستانی نسل کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ایک ہاتھ میں وید اور دوسرے ہاتھ میں مصنوعی ذہانت ہے۔ دونوں کا کامل توازن وہی ہے جو انہیں الگ کرتا ہے۔منوج سنہا نے مزیدکہاکہ جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور انسانی قیادت کا بہترین تعاون قوم کی تعمیر میں معاون ثابت ہوگا۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کااپنے خطاب میں کہناتھاکہ تجسس، علم اور عمل تین عناصر ہیں جو ہماری تقدیر بناتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے علمی معاشرے کا ارتقا ان تین عناصر کی بنیاد پر ہے جو جامع ترقی اور سماج کو بااختیار بنانے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنرنے مزیدکہاکہ ہندوستان کو سونے کی چڑیا کے طور پر نہ صرف اس لئے جانا جاتا تھا کہ ہم تہذیب، ثقافت اور خوشحالی میں دوسرے ممالک سے سینکڑوں سال آگے تھے بلکہ اس لئے بھی کہ ہمارے پاس بہترین تعلیمی ادارے تھے اور پورا معاشرہ شعور کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔منوج سنہا نے کہاکہ عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ نوجوان نسل کو قومی تعلیمی پالیسی2020 اور ڈیجیٹل انڈیا کے ایک طاقتور ماحولیاتی نظام کے ذریعے بااختیار بنایا جائے تاکہ انسانی صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت کے منفرد امتزاج کے ساتھ ہمارے نوجوان اپنی خواہشات کو پورا کر سکیں اور ملک کا سر فخر سے بلند کر سکیں۔لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ تکنیکی صلاحیتوں سے چلنے والی انسانی اقدار مستقبل میں کاروبار کو بدل دیں گی۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لائے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی انسانی قیادت کے ساتھ مل کر انسانی تاریخ میں خوشحالی اور ترقی کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہوگی۔










