سری نگر//کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رشمی سنگھ نے ’’ کارتیوا‘‘ کے ایک حصے کے طور پر آج یہاں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کمپلیکس سولنہ میں جموںوکشمیر کے چارٹرڈاکائونٹنٹس کے لئے جی ایس ٹی اِستفساری سیشن کا اِنعقاد کیا۔اُنہوں نے شرکأ کی طرف سے اُٹھائے گئے مختلف مسائل کا جواب دیا اور یقین دِلایا کہ تمام جائز مسائل و سوالات کا خیال رکھا جائے گا۔ایڈیشنل کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ( ایڈ منسٹریشن اینڈ اَنفورسمنٹ) کشمیر شکیل مقبول نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں شرکأ کو ان بدعنوانیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ٹیکس چوری اور حکومت کو ریونیو کے نقصان کا باعث بنتے ہیں ۔اُنہوں نے بالخصوص ہوٹلو ں او رٹریول ایجنٹوں کی جانب سے ٹیکس کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے ناہل ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے اِستعمال اور سپلائی کے قواعد کی جگہ خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی جی ایس ٹی واجبات کا اعلان کرنے کے مسائل کو اُجاگر کیا جس سے حکومت جموںوکشمیر یوٹی کی حکومت کو محصولات کا نقصان ہوتا ہے ۔ اُنہوں نے اِی ۔انوائس جاری کرنے پر بھی زور دیا۔ایڈیشنل کمشنر ٹیکسز پلاننگ اور ایڈوانس رولنگ انکیتاکار نے شرکأ کو جی ایس ٹی ایکٹ کے تحت آڈِٹ کے بارے میں آگاہ کیاجبکہ ایڈیشنل کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ( ایڈمنسٹریشن اینڈ انفورسمنٹ ) جموں کی حیثیت سے نمرتا ڈوگرہ نے بذریعہ ویڈیوکانفرنسنگ سیشن میں شرکت کی اور جی ایس ٹی ٹیکسیشن سسٹم میں سی اے کے کردار کی اہمیت پر بات کی۔میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر ( آڈِٹ اینڈ ریکوری) فاروق احمد بابا اور اسسٹنٹ کمشنر ( ٹیکنیکل) سریب سحران بھی موجود تھے۔اِستفساری سیشن میں چار ٹرڈ اکائونٹنٹس کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی ۔سیشن میں کشمیر سے زائد اَز 45 سی ایز موجود تھے جبکہ جموں سے سی اے نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ سیشن میں حصہ لیا۔










