biometric

سرکاری دفاتر کے بعد سکولوں میں بائیو میٹرک حاضری ہوگی

سکولوں میں طلبہ کو بھی بائیو میٹرک حاضرے سے جوڑا جارہا ہے ۔ ذرائع

سرینگر //جموں کشمیر کے سرکاری دفاتر میں بائیومیٹرنگ حاضری نظام کے بعد اب سکولوں میں بائیو میٹرک لگائے جارہے ہیں جس سے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بن جائے گی ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر میں محکمہ سکول ایجوکیشن نے ملازمین کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ‘ بائیو میٹرک حاضری کا نظام’ متعارف کرایا ہے۔ اگرچہ اس پر 100 فیصد عمل درآمد نہیں ہوا ہے لیکن اس نظام کے متعارف ہونے کے بعد سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری میں نمایاں بہتری آئی ہے۔یہ بیچ ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول ساوجیاں جموں و کشمیر کا پہلا سرکاری اسکول بن گیا ہے، جہاں اساتذہ کے علاوہ طلباء کی بائیو میٹرک حاضری بھی شروع کردی گئی ہے۔ صوبہ جموں کے سرحدی ضلع پونچھ میں ساواجیان کے ایک دور افتادہ علاقے میں واقع یہ اسکول ہمیشہ ایک منفرد پہل کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہے۔اس اسکول میں نویں سے بارہویں جماعت تک 276 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ طلباء بھی بائیو میٹرک مشینوں میں شرکت میں کافی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں اور انہوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔سکول کے پرنسپل انور خان نے ملاپ نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساوجیاں ماڈل ہائر سیکنڈری سکول جموں و کشمیر کا پہلا ایسا ادارہ ہے جس نے بائیو میٹرک حاضری کا نظام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اساتذہ کو سکول کے اوقات میں بائیو میٹرک حاضری کا پابند کیا گیا ہے، اسی طرح بچوں کو بھی پابند کیا جائے تاکہ تعلیمی نظام اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔پرنسپل انور خان کے مطابق بائیو میٹرک حاضری کے بہت سے فائدے ہیں، جب ہمیں طلباء کی حاضری اوپر بھیجنی ہوتی تھی تو ہم رجسٹرڈ سے ہر فرد کی حاضری اور غیر حاضری کے دنوں کی تعداد کا حساب لگا کر بھیج دیتے تھے لیکن اب صرف ایک کلک پر پوری پی ڈی ایف فائل نکل آئے گی اور ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کون سا بچہ آیا ہے اور کون سا نہیں۔یاد رہے کہ سرکاری دفاتر میں پہلے ہی بائیومیٹرک حاضری کا نظام راج ہے اور سرکاری ملازمین لازمی طور پر دفتر جاکر حاضر کرنے کے پابند بنائے گئے ہیںجس سے دفاتر میں سرکاری ملازمین کی حاضری پرکافی اثر پڑا ہے ۔