ٹٹو گراونڈ بٹہ مالو اور ڈگری کالج بمنہ میں ہزاروں کی تعداد میںدرخت موجود
سرینگر//ایک طرف جہاںسرکار کی جانب سے روسی سفیدے کے درختوں کے اُگانے پر پابندی عائد کررکھی ہے تاہم دوسری طرف ٹٹو گراونڈ بٹہ مالو اور ڈگری کالج بمنہ میں ہزاروں روسی سفیدے کے درخت لگے ہوئے ہیں جن سے روئی کے گالے نکل کر عام لوگوں کیلئے باعث پریشانی بن گئی ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق سفیدے کے درختوں سے نکلنے والی روئی کے گالے انسانو ں کیلئے مضر ہے اور اس سے گلے کا انفکشن ، نزلہ زکام اور چھاتی کے امراض ظاہر ہوتے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی بھرمیں روسی سفیدے کے درختوں سے نکلنے والی روئی نے عام لوگوں کو پریشان کررکھا ہے اور اس سے کئی طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑرہی ہے ۔ تاہم سرکار نے کچھ برس پہلے ان روسی سفیدے کے درختوں کے اُگانے پر مکمل پابندی لگائی ہے تاہم ٹٹو گراونڈ بٹہ مالو اور ڈگر کالج بمنہ میں ہزاروں کی تعداد میں یہ روسی سفیدے کے درخت پائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان درختوں سے نکلنے والی روئی آس پاس کے علاقوں میں پھیل کر عام لوگوں کیلئے باعث پریشانی بن گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ سفیدے کے درختوں سے نکلنے والی روئی کی وجہ سے عام لوگوںکو تو پریشانی ہوتی ہے تاہم اس سے مریضوں کو بھی خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہاں کئی ایسے مریض ہیں جن کو سانس کی تکلیف ، دل کے مریض اور چھاتی کے امراض میں مبتلاء ہیں اور اگر ان مریضوں کے منہ میں یہ روئی چلی جائے گی تو ان کیلئے یہ کافی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔ خاص کر آکسیجن سپورٹ پر رہنے والے مریضوں کو اس سے جان کا خطر ہ بھی ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق یہ روئی انسانوں کیلئے بہت مضر ہے اور اس سے گلے کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور چھاتی کے امراض پیدا ہوتے ہیں جبکہ نزلہ زکام اور کھانسی اس سے عام بات ہے ۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان روسی سفیدوں کے درختوں کو کاٹنے کیلئے فوری طور پر کارروائی کی جائے ۔










