سرینگر کے دیگر روٹوں پر بھی ای رکشا چلانے کا عوامی حلقوں کا مطالبہ
سرینگر///وادی کشمیر میں سرکار نے ای رکشا متعارف کرائے جس سے بہت سے بے روزگار افراد کو روزگار ملا ہے تاہم شہر سرینگر اور دیگر اضلاع میں ای رکشا چلانے والوں کو دیگر ٹرانسپورٹروں کی جانب سے ہراساں کرنے کے واقعات رونماء ہورہے ہیں۔ خاص طور پر سرینگر کے مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹر ان ای رکشا والوں کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور وادی کے دیگر قصہ جات میں ای رکشا سروس شروع ہونے سے نہ صرف بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دستیاب ہوا ہے بلکہ اس سے عام لوگوں کو بھی کافی فائدہ پہنچا ہے اور ایسے روٹوں پر مسافروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولیت دستیاب ہوئی ہے جن روٹوں پر نہ سومو گاڑیاں چلتی تھیں اور ناہی دیگر کوئی مسافر گاڑی ۔ جبکہ ای رکشا کی وجہ سے لوگوں کی جیبوں پر بھی کم بوجھ پڑ رہا ہے ۔ ای رکشا والے فی سٹاپ کیلئے صرف دس روپے کرایہ لیتے ہیں جبکہ آٹو رکشا اس سفر کیلئے پچاس سے سو روپے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ تاہم ای رکشا والوں کو کافی مشکلات کا سامنابھی کرنا پڑرہا ہے خاص کر ٹرانسپورٹروں کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے یہاں تک کہ انہیں دھمکیاں بھی دی جارہی ہے ۔ اس ضمن میں عوامی حلقوں نے سخت برہمی کااظہار کیا ہے ۔لوگوں نے کہا ہے کہ سرینگر کے جن روٹوں پر گاڑیاں دستیاب نہیں ہے ان سبھی روٹوں پر خاص کر پائین شہر کے لالبازار، درگاہ حضرتبل ، بمنہ کے مختلف روٹوں اور دیگر علاقوں میں بھی ای رکشا چلانے کو منظوری دی جانی چاہئے تاکہ ان روٹوں پر لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سے چھٹکارا ملے ۔ اس سلسلے میں ای رکشا والوں کو ہراساں کرنے پر سماجی کارکن جاسم رونگہ نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ای رکشا کے چلنے سے عام لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے تاہم چند خود غرض منی بس والے ان کو چلنے کی دوراں ہراساں کرتے ہیں جس کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ای رکشا کے آنے سے نہ صرف عام لوگوں کو سہولیات بلکہ فائدہ بھی آیا ہے اور جس کام سے عوام کو فائدہ ہو میں اس کے حق میں بات کرونگا۔ انہوں نے کہ شام ہوتے ہی سڑکوں سے ٹریفک غائب ہوجاتا ہے اور تب جاکے یہی ای رکشا والے سڑکوں پر نظر آتے ہیں اور عام لوگ اس کا سہارا لیکر اپنے منزل پر پہنچ جاتے ہیں تب جاکے یہ منی بس والے کہا ہوتے ہیں۔جاسم رونگہ نے سرکار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ای رکشا عوام کے مفاد میں ایک بہترین سہلویات ہے لہذا ان کے چلنے پھرنے میں ان کو جو بھی ہراساں کرنے کی کوشش کریں ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لانی چاہیئے۔










