سینٹرل نوڈل آفیسر جے ایس اے ۔سی ٹی آر نے ضلع اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا

رام بن//ڈائریکٹر ( لأاینڈ آڈر) اِنٹر نل سیکورٹی ۔I ڈویژن ،مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی نوڈل آفیسر جے ایس اے ۔ سی ٹی آر محترمہ نشتہ تیواری سائنسدان گرائونڈ واٹر چندر ی ڈی کے ساتھ جو رام بن ضلع کے تین روزہ دورے پر ہیں ، نے یہاں ڈی سی آفس کمپلیکس کے کانفرنس ہال میں ضلع اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران کے ساتھ بات چیت کی۔اُنہوں نے پروگرام کے مختلف اہم پہلوئوں اور ضلع میں جے ایس اے کی عمل آوری کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے ضلع میں اَب تک حاصل کی گئی مالی اور طبعی ترقی کا بھی جائزہ لیا ۔ اُنہوں نے جل شکتی ابھیان کو مؤثر طریقے سے عملانے میں ضلع اِنتظامیہ اور دیگر شراکت داروں کی کوششوں کی سراہنا کی۔ محترمہ نشتہ تیواری نے اِجتماع سے بات چیت کرتے ہوئے شراکت داروں سے کہا کہ وہ پانی کے تحفظ ، اس کے درست استعمال ، پانی کے ذریعے کے تحفظ اور بارش کے پانی کی ذخیرہ کرنے کی ضرورت کو سمجھیں تاکہ ہمارے مستقبل کے لئے بھی محفوظ اور کافی پانی دستیا ب ہو۔ اُنہوں نے متعین ایس او پیز اور نوڈل پوائنٹ ( سنگل پوائنٹ آف کنٹیکٹ )کے ساتھ شراکت داروں کے ہم آہنگی پر زور دیا جو پانی کے تحفظ کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے بہت ضروری ہے۔اُنہوں نے ضلع کے تمام آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی جیو ٹیگنگ کرنے کو کہا۔ اُنہوں نے بارش کے پانی اور کچن کے پانی کے زراعت ، کچن گارڈننگ اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کو ظاہر کرتے ہوئے ضلع سے پانی کے تحفظ کی کامیابی کی داستانیں پھیلائیں ۔ اُنہوں نے انار دانا کی صلاحیت کو جانتے ہوئے محکمہ جنگلات پر زور دیا کہ وہ انار دانا کے ساتھ شجرکاری کرے تاکہ مٹی اور پانی کے تحفظ اور آس پاس کے لوگوں کو معاشی فائدہ حاصل ہوسکے۔ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن مسر ت الاسلام نے ضلع میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیر زمین پانی کوری چارج کرنے کے لئے ضلع اِنتظامیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی رِپورٹ پیش کی ۔ بتایا گیا کہ جل شکتی کیندر ڈی سی آفس کمپلیکس سے کام کر رہا ہے اور پانی کے تحفظ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر جانکاری دی کہ ضلع میں 57,738 گھرانے ہیں اور ان میں سے 48.56فیصد کو جے جے ایم کے تحت ایف ایچ ٹی سی فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ضلع میں جے جے ایم کے تحت 88 جاری پروجیکٹوں ضلع کے ہر گھر کو پینے اور نلکے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ضلع نے آر ڈی ڈی ، آئی ڈبلیو ایم پی ، باغبانی ، مٹی کے تحفظ ، زراعت ، جل شکتی ، جنگلات اور دیگر محکموں کے تحت متعدد نئے واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچے کو بحال کیا ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ مالی برس کے دوران ضلع میں 107 امرت سروور تعمیر کئے گئے ہیں تاکہ پانی کو محفوظ کیا جاسکے اور زمینی پانی کوری چارج کیا جاسکے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ سکولوں، دیہاتوں، عوامی مقامات پر، بلاک دیوس پروگراموں کے دوران، گرام سبھاوں میں اور پانی سمیٹیوں میں وسیع بیداری مہم چلائی جارہی ہے تاکہ ان میں پانی کی بچت کی عادت ڈالی جاسکے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموںکو عوام تک معلومات پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جا تا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر مزید کہا کہ محکمہ جنگلات نے مشن لائف اور دیگر سکیموں کے تحت ضلع میں وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی ہے اور اس علاقے میں مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے تقریباً پانچ لاکھ پودے لگائے ہیں۔جل شکتی ابھیان مرکزی حکومت کا ایک اہم پروگرام ہے جو ملک میں پانی کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پانی کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، پانی کی ذخیرہ اندوزی کو فروغ دینااور پانی ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔میٹنگ میں سپر اِنٹنڈنٹ اِنجینئر ہائیڈرولک سرکل ڈوڈہ انیل گپتا ، سی پی او کستوری لال ، اے سی آر رام بن غیاث الحق ، اے سی ڈی اشوک سنگھ ، سی اے او ، سی ایچ او ، سی اے ایچ او ، سی ایم او ، ڈی ایف اوز ، ایگزیکٹیو اِنجینئر جل شکتی راجیو گھئی اورسیکٹورل اَفسران ، مختلف ضلع اور متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔