آلوک کمار کا وومنز کالج میں این اے اے سی اسیسرز اور نٹیشن پروگرام سے خطاب

آلوک کمار کا وومنز کالج میں این اے اے سی اسیسرز اور نٹیشن پروگرام سے خطاب

سری نگر// نیشنل اسسمنٹ ایںد ایکریڈیٹیشن کونسل ( این اے اے سی ) کے زیر اِنعقاد اور ڈائریکٹوریٹ آف کالج ، اعلیٰ تعلیم محکمہ کے اشتراک سے گورنمنٹ کالج فار وومن ایم اے روڈ میں منعقدہ دو روزہ ’’ اسیسرز اور نٹیشن پروگرام ‘ ‘ تقریب کا آغاز پرنسپل سیکرٹری تعلیم آلوک کمار کے باقاعدہ اِفتتاح کرنے سے ہوا۔ اِس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اورنٹیشن پروگرام تمام شراکت دارون کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا اور تعلیمی معیار کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ این اے اے سی کی طرف سے کی جانے والی تشخیص اور ایکر یڈیٹیشن مشق اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اِدارے تدریسی ، سیکھنے عمل ، تحقیقی ، بنیادی ڈھانچہ اور طلباء کی خدمات کے حوالے سے معیارات پر عمل پیرا ہوں۔اورنٹیشن پروگرام میں کشمیر اور جموں صوبوں کے مختلف کالجوں کے پرنسپل شرکت کر رہے ہیں ۔دورہ کرنے والی این اے اے سی ماہرین کی ٹیم کے اَرکان میں ڈاکٹر جی پی اپادھیا ، ڈاکٹر نیلیش پانڈے ، ڈاکٹر ایس سری کانت سوامی ، ڈاکٹر پی شیوا کمار او رایچ وِی چندر شیکھر شامل تھے۔اِس موقعہ پر پرنسپل سیکرٹری نے میزبان کالج کے کئی اقدامات کا آغاز اور اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے اِی جرنل ’’ ڈاسیئر آف میوز ‘ ( اِنٹرنیشنل جرنل آف لٹریسی سٹیڈیز ) کا آغاز کیا او رکالج میگزین ’’ دی پمپوش ‘ ‘ کا پرنٹ ایڈیشن جاری کیا۔تقریب کے موقعہ پر آلوک کمار نے ’’ سینٹر فار ریسرچ اینڈ انوویشن ‘ایک کثیر الضابطہ سائنس ریسرچ لیبارٹری کا بھی اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے سوشل سائنسز میں ملٹی ڈِسپلنری ریسرچ لیب ، واٹر مینجمنٹ لیب اور کلچر لیب کا اِفتتاح کیا۔پرنسپل سیکرٹری نے کالج کے طلباء کی مہارت اور اِختراعی کوششوں کو ظاہر کرنے کے لئے ’’ امپاور منٹ اینڈ اَنٹرپرینیور شپ ڈیولپمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت منعقدہ ایک نمائش کا اِفتتاح کیا۔اِس سے قبل اَپنے خصوصی خطاب میں حکومت سکم کے کابینہ سیکرٹری داکٹر جی پی اپادھیا نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم تعلیمی شعبے میں ایک بڑی تشویش تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مطلوبہ مہارت کی کمی ہے جو انہیں بے روزگار بناتی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی ۔2020 کا مقصد اِس مسئلے کو جامع اَنداز میں حل کرنا ہے۔این اے اے سی کے مشیر ڈاکٹر بی ایس پونمو د یراج نے کہا کہ این اے اے سی کو تشخیص اور منظوری کے دوران متعدد عوامل پر غور کرنا ہوگا اور مشق میں موجود چیلنجوں کا حوالہ دیا ہے ۔اُنہوں نے جائزہ لینے والوں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے این اے اے سی کے ذریعے نپٹنے والے قانونی چیلنجوں کا حوالہ دیا۔ڈائریکٹر کالجز پروفیسر یاسمین عشائی نے این اے اے سی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے این اِی پی ۔2020ے تشخیص او رایکریڈیٹیشن کے عمل کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت کا حوالہ دیا۔اُنہوں نے کہا کہ این اے اے سی ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی معیار کو واضح کرنے میں ایک اہم کردار اَداکر رہا ہے ۔ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم میں خود تشخیص ، جواب دہی ، خود مختاری اور اختراعات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔میزبان کالج کے پرنسپل پروفیسر روحی جان کنٹ نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں کہا ، ’’ این اے اے سی نے اعلیٰ تعلیم میں خود تشخیص ، جواب دہی ، خود مختاری اور اختراعات کی حوصلہ اَفزائی کی ہے ۔‘‘ اُنہوں نے این اِی پی ۔2020 کے مطابق مضبوط تحقیق او رسکل ڈیولپمنٹ کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لئے اِدارے کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ڈاکٹر ابینہ حبیب نے سیشن کی نظامت کے فرائض اَنجام دی جبکہ داکٹر سمیر کول نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔بعدمیں میز بان اِدارے کے شعبہ موسیقی کے طلباء نے کالج ترانہ پیش کیا۔