ایک شخص پرحملہ اورہراساں کرنے کی شکایت پر پولیس ایکشن

ڈی ڈی سی ممبرکھنموہ کیخلاف مقدمہ درج ,اعجاز حسین راتھر نے علاقہ میں دہشت مچادی ہے:مئیرجنیدمتو

سری نگر//سری نگرپولیس نے ایک شخص پر حملہ اورہراساں کرنے کے الزام میں مبینہ طور پر بھاجپا سے وابستہ ایک ڈی ڈی سی ممبرکیخلاف مقدمہ درج کرلیا ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے سری نگر میں ایک شخص پر حملہ اور ہراساں کرنے کا الزام لگانے کے بعد ایک ڈی ڈی سی ممبر کے خلاف غلط روک تھام اور رضاکارانہ طور پر تکلیف پہنچانے کا مقدمہ درج کیا ہے۔سری نگر پولیس نے بتایا کہ ڈی ڈی سی ممبر اعجاز حسین راتھر کے خلاف دفعہ 323 اور 341 آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے کہا کہ یہ مقدمہ ناظم حسین بٹ اور امداد علی میر نامی2افراد کی شکایت پر ڈی ڈی سی ممبر کے خلاف درج کیا گیا ہے۔سری نگرپولیس نے ایک ٹویٹ میں جانکاری دی کہ ناظم حسین بٹ اور امداد علی میر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پرایف آئی آر نمبر51/2023تحت دفعہ323اور341آئی پی سی 30مئی2023کو پولیس تھانہ پانتہ چوک سری نگرمیں ڈی ڈی سی ممبر اعجاز حسین راتھر کے خلاف غلط طریقے سے روک تھام اور رضاکارانہ طور پر زیادتی کے جرم میں درج کی گئی۔قابل ذکر ہے کہ ڈی ڈی سی ممبر اعجاز حسین راتھر حج کمیٹی آف انڈیا کے رکن ہیں، اور بھاجپا کی یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ (BJYM) کے سابق قومی نائب صدر ہیں۔2020میں موصوف نے کھنموہ سری نگر حلقہ سے ڈی ڈی سی الیکشن جیتا،اوروہ ضلعی ترقیاتی کونسل کا ممبر بن گیا۔ادھر سری نگرمیو نسپل کارپوریشن کے مئیرجنید عظیم متو نے الزام لگایا تھاکہ اعجازاحمد راتھر نے شہر کے بالہامہ علاقے کے ایک شہری پر حملہ کیا تھا۔جنیدمتو نے ایک ٹویٹ میں یہ الزام لگایاکہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے موجودہ ڈی ڈی سی ممبر کے ذریعہ بالہامہ سری نگر کے لوگوں پر دہشت کا راج شروع کیا گیا ہے! ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ان کی طرف سے کسی شہری پر یہ دوسرا حملہ ہے! یہاں تک کہ اب خواتین پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے۔