ڈاکٹر جتندرسنگھ ، محبوبہ مفتی وعمرعبداللہ،غلام نبی آزاد اورسجادغنی لون نے کی سخت الفاظ میں مذمت
سری نگر//پیرکی شام ضلع اننت ناگ میں مبینہ طور پر ملی ٹنٹوںکے ہاتھوں مارے گئے اودھم پورکے27سالہ نوجوان ،جو غریب کنبے کاواحد کفیل تھا،کی آخری رسومات اداکی گئیں جبکہ اس موقعہ پر ادھم پور ضلع میں منگل کو سینکڑوں لوگوںنے اس ٹارگٹ کلنگ کیخلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔اُدھرمرکزی وزیر جتندرسنگھ ،سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی وعمرعبداللہ،غلام نبی آزاد اورسجادغنی لون سمیت کئی سیاسی لیڈروںنے اس ہلاکت کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے غمزدہ خاندان کیساتھ دلی ہمدردی اورتعزیت کااظہارکیا۔جے کے این ایس کے مطابق 27سالہ دیپور کمار ساکنہ اودھم پورجموں جوکہ پیشے سے ایک مزدور تھا،کو ملی ٹنٹوںنے پیر کو شام کے وقت گولیوںکا نشانہ بناکر موت کی نیندسلادیا۔پولیس نے کہاکہ دیپوکمار کو پیر کی شام تقریباًساڑھے8بجے موٹر سائیکل پرسوار2نوجوانوںنے جنگلات منڈی اننت ناگ میں اُسوقت گولیوںکا نشانہ بنایا،جب وہ دودھ کی خریداری کے لئے قریبی بازار گیا ہوا تھا۔پولیس نے بتایا کہ سرکس میں کام کرنے والے کارکن کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔پولیس کے مطابق ایک غیر معروف تنظیم، کشمیر فریڈم فائٹر، جسے کالعدم پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کی سایہ دار تنظیم سمجھا جاتا ہے، نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔پولیس نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور قاتلوں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔اس دوران منگل کی صبح جب نابینا بھائی،بوڑھے باپ اور ایک ماہ بعد ماں بننے والی اہلیہ کے واحد کفیل دیپو کی نعش کوآبائی گھرواقع اودھم پور ضلع کے دور افتادہ گاؤں تھیال پہنچایاگیا تووہاں کہرام مچ گیا ،اور بڑی تعدادمیں لوگوںنے سڑکوں پر نکل کراس ہلاکت کیخلاف احتجاج کیا ۔احتجاجی مظاہرین بٹل چوک پر جمع ہوئے، دھر روڈ بلاک کر کے پاکستان مخالف نعرے لگائے۔انہوںنے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ متاثرہ خاندان کی کفالت کو یقینی بنائیں۔ادھر سیاسی رہنماؤں نے اننت ناگ میں شہری کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے اس طرح کی ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔جتندرسنگھ، ٹویٹر پر لکھا،چنئی کے دورے کے دوران، مجھے نوجوان دیپو کے وحشیانہ قتل کے بارے میں جان کر بہت صدمہ پہنچا، جس کا تعلق مجلٹا، ضلع ادھم پور سے تھا اور اننت ناگ میں معمولی روزی کما رہا تھا۔انہوںنے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ اننت ناگ میں ایک بے گناہ شہری پر ایک اور حملے سے بہت غمزدہ ہوں۔ دکھ کی اس گھڑی میں میرا دل ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیاکہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں ایک شہری کے خلاف ایک اور ٹارگٹ حملے کی خبر سے دکھ ہوا ہے۔ دیپک کا قتل ایک مکروہ حرکت ہے اور میں اس عسکریت پسندانہ حملے کی بلاامتیاز مذمت کرتا ہوں۔ اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے کہا کہ دہشت گردی ایک خطرہ ہے جس کا سب کو مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ یہ انسانیت کے خلاف ایک لعنت ہے۔انہوں نے متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے ٹویٹ کیاکہ اننت ناگ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں دیپو کا قتل ایک اور وحشیانہ واقعہ ہے۔انہوںنے سوالیہ اندازمیں کہاکہ حیرت ہے کہ ایک شہری کا قتل کسی کی مدد کیسے کرتا ہے۔ دیپو یہاں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کی تلاش میں تھا۔ اور اللہ ان غنڈوں کو جہنم میں ڈالے جنہوں نے اسے قتل کیا۔










