وادی میں زلزلہ کی شدت نے 2005کے خوفناک منظر کی یاد دہانی کرائی
سرینگر///وادی کشمیر میںاتوار کے روز زلزلہ کے زور دار جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے نتیجے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ادھر زلزلہ کا مرکزی افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا جہاں زلزلہ کی شدت 5.2ریکٹر پیمانے پر محسوس کئے گئے جبکہ اس کا اصل مرکز افغانستان رہا اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ملک کے کچھ حصوں میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں اُس وقت 2005کے تباہ کن زلزلہ کی یادیں تازہ ہوئیں جب اتوار کی صبح قریب گیارہ بجکر 19منٹ پر 5.2ریکٹر پیمانے کی شدت کے زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ زلزلہ کی وجہ سے فوری طور پر کسی جگہ سے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے البتہ لوگ خوف زدہ ضرور ہوئے ۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کے فیض آباد میں 5.2 شدت کے زلزلے کے بعد اتوار کو جموں و کشمیر کے سری نگر اور پونچھ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ کے قومی مرکز نے بتایا کہ زلزلہ صبح 11:19 بجے افغانستان میں لاٹ: 36.56 اور طویل: 71.13، گہرائی: 220 کلومیٹر” پر آیا۔جبکہ ملک کے مختلف شہریوں جیسے چندی گڑھ سمیت پنجاب اور ہریانہ کے کچھ حصوں میں بھی زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے ماہرین نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے جو چند سیکنڈ تک جاری رہے، صبح 11.23 بجے کے قریب پاکستان کے مختلف علاقوں میں 6 شدت کا زلزلہ آئے۔اتوار کی صبح پاکستان کے کئی حصوں میں 6.0 شدت کے ایک طاقتور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا اور رہائشیوں کو اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔اسلام آباد میں نیشنل سیسمک مانیٹرنگ کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا اور یہ 223 کلومیٹر کی گہرائی سے شروع ہوا، جس نے اس کے تباہ کن اثرات کو کافی حد تک کم کر دیا۔اسلام آباد، پشاور، سوات، ہری پور، مالاکنڈ، ایبٹ آباد، بٹگرام، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر، ٹیکسلیا، پنڈ دادن خان اور ملک کے کئی دیگر حصوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔پاکستان میں اکثر مختلف شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔پاکستان میں 2005 میں آنے والے مہلک ترین زلزلے میں 74,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔










