جموں وکشمیر بھارت کی ترقی یافتہ خطوں میں کچھ قابل پیمائش سنگ میل پر کھڑا ہے:لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج جی۔20 کے تیسرے ٹوراِزم ورکنگ گروپ اِجلاس سے خطاب کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ کیوں جی۔20 میٹنگ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے جموں وکشمیر کا اِنتخاب کیا تھا ۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ جموںوکشمیر وزیر اعظم کی قیادت میں ایک نئے دور کا مشاہدہ کررہا ہے اور اس نے ترقی اور امن کے لامحدود امکانات کو کھول دیا ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ وزیر اعظم نریندر مودی جی نے ترقیاتی سکیموں سے جو عوام کو بااِختیار بناتی ہے اوریوٹی کی مؤثر اِنتظامیہ نے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو الگ تھلگ کیا ہے جو سرحد پار کی حمایت سے پروان چڑھا تھا۔اَب یہاں تک کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی جموںوکشمیر میں ہورہی ہے ، بہتر وقت کی سبز شاخیں لوگ بے چینی سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ جموںوکشمیر کی سیاحت بھی بھارت کے کثیر مذہبی اور کثیر الثقافتی اقدار کی عکاس ہے۔اُنہوں نے ترقی اور سیاحت کے لئے اَمن کی اہمیت پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’سیاحت تنہائی میں نہیں بڑھ سکتی ۔ اِس کی معاشیات ٹھیک ہے کہ سیاحت کو اَچھے بنیادی ڈھانچے ،اَچھی پالیسیوں اور مؤثر اور ذمہ دار اِنتظامیہ کی ضرورت ہے ۔میرے لئے یہ حقیقت بھی کم نہیں ہے کہ صرف اَمن اور لوگوں کی خوشی ہی مہمان نوازی میں گرمجوشی لاسکتی ہے ، ہم ہندوستانی ہمیشہ سے لطف اَندوز ہوتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ آج جموں وکشمیرہندوستان کے ترقی یافتہ خطوں میں سے کچھ قابل پیمائش سنگ میل پر کھڑا ہے اور اِنتظامیہ معاشی او رسماجی طور پر لوگوں کی خوشحالی کے لئے پُر عزم ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ وزیرا عظم نریندرمودی جی نے نااِنصافی ، استحصال اور امتیازی سلوک کو مکمل طور پر ختم کیا ہے جس کا سماج کے کئی طبقوں کو سات دہائیوں تک سامنا کرنا پڑا، ان حالات کی وجہ سے جو زیادہ تر بیرون ملک کی کارستانی کی وجہ سے پیدا ہوئیں ۔ ہم تمام شہریوں کے لئے سماجی مساوات اور مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنارہے ہیں جو اُنہیں قوم کی تعمیر میں اَپنا حصہ اَدا کرنے کے قابل بنا رہا ہے ۔‘‘اُنہوں نے جموں وکشمیر کی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بنیادی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے ۔ نئی صنعتیں آرہی ہیں ، تیز زرعی ترقی ہمارے گائوں کو خوشحال بنارہی ہے ، اعلیٰ تعلیم میں نئے اِدارے کھولے گئے ہیں، نوجوانوں کو اِنڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجی کے لئے تربیت دی جارہی ہے ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی تیزی سے ہو رہی ہے اور ٹیکنالوجی پر ہمارا زور جموں وکشمیر کوڈیجیٹل سوسائٹی میںتبدیل کیا جا رہا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ 4برسوںمیں وزیر اعظم نریندر مودی جی کی دُور اَندیش قیادت کی بدولت دیرپا ترقی کے اہداف کے مختلف پیر امیٹروں پر جموںوکشمیر کی درجہ بندی میں اِضافہ ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’دنیا دیکھ سکتی ہے کہ پورا معاشرہ بالخصوص نوجوان پود اَپنے اور قوم کے روشن مستقبل رقم کر رہی ہے ۔ جموں کشمیر میں تیز رفتار ترقی قابل تعریف ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو انجام دینے کی ہماری رفتار تقریباً 10 گنا بڑھ گئی ہے۔‘‘اُنہوں نے سیاحت اور دُنیا پر کووِڈ وبائی بیماری کے اَثرات تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کووِڈ وبائی بیماری نے دُنیا کو مشکل طریقے سے مسافروں کی فلاح و بہبود کی خوبیوں ور مشترکہ ویژن ’’ایک زمین ، ایک کنبہ اور ایک مستقبل ‘‘کی اقدار کا اَحساس دِلایا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ دیرپا زندگی ، جامع او ردیر پا ترقی کی طرف متوازی تبدیلی دیرپا سیاحت کو نئی تحریک فراہم کرنے کا ایک موقعہ بھی ہے ۔ مجھے واقعی خوشی ہے کہ اِنڈیا کی جی۔20 صدارت کے تحت جی۔20 ٹوراِزم ورکنگ گروپ پانچ باہمی منسلک ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ۔ گرین ٹوراِزم ، ڈیجیٹلائزیشن ، ہنر ، سیاحت کے ایم ایس ایم ایز اور منزل کا اِنتظام دیرپا ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی خاطر سیاحت کے لئے ایک روڈ میپ فراہم کرے گا۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پہلے ہی چند ترجیحی شعبوں جی۔20 ٹوراِزم ورکنگ گروپ جیسے گرین ٹورازم ، سکلز، ٹوراِزم ایم ایس ایم ایز اور ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ وَبائی بیماری کے بعد کے دور میں پانچ اہم عمارتی بلاکس ماحولیاتی بیداری کو فروغ دیں گے ، ماحولیات کی حفاظت کریں گے اور طبقوں کی معیشت اور معاش کو بہتر بنائیں گے اور شراکت داروں کی جامع ترقی کریں گے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جی۔20 ٹی ڈبلیو جی میٹنگ شاندار چوٹیوں ، کرسٹل صاف جھیلوں اور پُر اَمن سبز مناظر کی سرزمین میںمنعقد ہو رہی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر ایک سیاحتی مقام سے زیادہ ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی رہنمائی میں ہم نے اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وَبائی بیماری کے پس منظر میں سیاحتی شعبے میں تبدیلی سیاحوںکی ضروریات، صنعتی شراکت داروں کے مفادات ، روزگار کے مواقع پید ا کرنے اور ماحولیاتی بیداری کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے نوٹ کیا کہ ریکارڈتعداد میں 18ملین سیاحوں نے جموںوکشمیر کا دورہ کیا او رگذشتہ برس سیاحتی شعبے نے جموں وکشمیر جی ڈی پی میں 7فیصد کا حصہ اَدا کیا ۔ ہم نے سبز سیاحت ، چھوٹے او ردرمیانے درجے کے کاروباری اِداروں ، نوجوانوں او رخواتین کاروباریوں کو فروغ دینے اور دیر پا سیاحت کا سپورٹ کے لئے مقامی طبقوںکو شامل کرنے کے لئے 300 نئی منزلوں کی نشاندہی کی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جموںوکشمیر میں سیاحتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیا گیا ہے او رہماری صنعتی پالیسی کے مطابق تمام مالی مراعات دی گئی ہیں او رمیں آپ کو بتاسکتا ہوںہمیں مہمان نوازی شعبے میں صنعتوں سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہو رہی ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تقریباً 4 دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے بالی ووڈ کے ساتھ تعلقات کو بحال کیا ہے او رفلمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے2021 ء میں فلم پالیسی کا آغاز کیا ہے ۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ برس اِس خطے میںزائد اَز 300 فلمیں فلمائی گئی تھیں اور اِس طرح کے جوش و جذبے سے لوگوں کی زندگی میں ایک معیاری تبدیلی آرہی ہے ۔اُنہوں نے کہا ،’’ ہمارا مقصد دیہی علاقوں اور مقبول مقامات کو مزید دیرپا بنانا او ردِلکش تاریخی مقامات کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں جموںوکشمیر جلد ہی دُنیا کے ٹاپ 50مقامات میں اَپنا مقام حاصل کرے گااور یہ عالمی سیاحوں کی پسند یدہ جگہوں کی فہرست میں شامل ہوگا۔‘‘اِفتتاحی اِجلاس میں مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی ، مرکزی وزیر مملکت داکٹر جتندر سنگھ ، مرکزی وزیر مملکت اَجے بھٹ ، جی ۔20شیرپا شری امیتابھ کنٹ، جی۔20 چیف کوآرڈی نیٹر ہرش وردھن شرنگلا ، جی ۔20 ممالک کے مندوبین ، مبصر ممالک کے مدعواور مختلف کثیر الجہتی آرگنائزیشنوں کے نمائندے موجود تھے۔










