ی نگر//مرکزی حکومت نے بھارت پشو دھان ۔ نیشنل ڈیجیٹل لائیو سٹاک مشن ( این ڈی ایل ایم ) کی عمل آوری کے حوالے سے ایک اہم اعلان کیا ہے اور اِس پروگرام کی عمل آوری کے لئے چھ رِیاستوں اور یوٹیز میں سے جموںوکشمیر کا اِنتخاب کیا ہے۔اِس مشن کا مقصد ٹیکنالوجی سے کار فرما کسانوں پر مبنی ایکو سسٹم بنانا ہے جس میں جموںوکشمیر میں ایک ڈیجیٹل لائیو سٹاک ڈیٹا بیس کا قیام ، کسانوں کی بہتر خدمات اور بروقت تازہ معلومات شامل ہوگی ۔ اِس اقدام کے حصے کے طور پر موجودہ آئی این اے پی ایچ سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے گا۔این ڈی ایل ایم تمام مویشیوں اور چھوٹے بچوں کے لئے 12 ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد بار کوڈ ڈ ٹیگ آئی ڈی کا فائدہ اُٹھائے گا جونیشنل ڈیزیزکنٹرول پروگرام اور لائیو سٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام کے تحت یونیورسل فوٹ اینڈمائوتھ ڈیزیز ( ایف ایم ڈی) ویکسی نیشن کے عمل میں اہم کردار اَدا کرے گا۔اِس ترقی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے سافٹ ویئر کے ڈھانچے اور پلیٹ فارم کو اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت کا واضح ادراک ہے تاکہ آئی ٹی پرمبنی نظا م کو اِستعمال کرنے میں مویشیوں کے ڈاکٹروں ، پیراویٹ اور دیگر شراکت داروں کو درپیش چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیدوار اَتل ڈولو نے اِس پروگرام کو عملانے والی پہلی ریاستوں اور یوٹیز میں جموںوکشمیر کو منتخب کرنے پر مرکزی حکومت کا شکر یہ اَدا کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ خطے میں90 فیصد سے زیادہ بوائنیز پہلے ہی آئی این اے پی ایچ پورٹل پر ٹیگ اور جسٹرڈ ہیں جس سے جموںوکشمیر میں آئی این اے پی ایچ سے این ڈی ایل ایم تک ڈیٹا کی بغیر کسی رُکاوٹ کی منتقلی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔اِس مشن کا بنیادی مقصد کسانوں کو ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں فعال طور پر شامل کرنا اور بیماری کی پیش گوئی ، تجزیہ اور روکتھام کے لئے ڈیٹا کا زیادہ سے زیادہ اِستعمال کرنا ہے ۔اَتل ڈولو نے اِس بات پر زور دیا کہ جموںوکشمیر یوٹی میں آئی این اے پی ایچ ایپلی کیشن کے تمام صارفین کو واضح ہدایات دی جانی چاہئیں اور ان سے کہا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے آغاز سے پہلے آئی این اے پی ایچ پورٹل پر کسی بھی زیر اِلتوأ ڈیٹا کو فوری طور پر اَپ لوڈ کریں۔اِس پروگرام کے تحت بغیر کسی رُکاوٹ کے منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی نوڈل اَفسران جن کو متعلقہ محکمہ بھیڑ و پشو پالن کے سربراہان نے نامزد کیا ہے،23؍ مئی این ڈی ایل ایم ٹرینرز سے تربیت حاصل کریں گے ۔ یہ اَفسران کے بعد تمام آئی این اے پی ایچ صارفین اور یونین ٹیریٹری کے اَندر دیگر متعلقہ شراکت داروں کے لئے متعدد تربیتی سیشن منعقد کریں گے جو نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لئے ان کی تیاری کی ضمانت دیں گے ۔ اعداد و شمار کو یکجا کرنے سے جموںوکشمیر میں مختلف زرعی موسمی حالات کے لئے موزوں اعلیٰ معیار کے جراثیم کے حصول پر توجہ مرکز کرنے والے اَفزائش کے پروگرام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔مزید برآن ، این ڈی ایل ایم پورٹل جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈی پی ) کے ڈیر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو عملانے میں اہم کردار اَدا کرے گا۔ آن لائن پلیٹ فارم میں ایک اِن بلٹ راشن بلینسنگ اور دودھ کی ریکارڈنگ ماڈیول ہے جو چھ لاکھ ڈیری پشوئوں کے لئے راشن بیلنسنگ اور 30,000 ڈیری مویشیوں کے لئے سالانہ دودھ کی ریکارڈنگ میں پشتو ساکھیو ںکے ذریعے مدد کرے گا۔پروگرام کا مقصد ایک جامع اوپن سورس اور اے پی آئی مربوط ڈیٹا بیس قائم کرنا ہے۔اِس میں اہم ڈیٹا جیسے ویکسی نیشن ریکارڈ ، افزائش نسل کی تفصیلات ، تجارتی سرگرمیاںاور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہیں جو متعلقہ شراکت داروں بشمول ویٹر نریرین ، پیرا ویٹ او رکسانوں سے رئیل ٹائم میں ریکارڈ کی جائیں گی۔نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے اینمل ہسبنڈری اور ڈیری ڈیپارٹمنٹ نے مرکزی حکومت پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر کے دفتر کی رہنمائی میں ’’ بھارت پشو دھن‘‘ کے نام سے اِس پہل کا تصور کیا ہے۔آئی سپارٹ رضاکار ٹیم جو یو اے ڈی اے آئی آدھار کو ڈیزائن کرنے کے اَپنے کام کے لئے مشہور ہے ،پروجیکٹ کے ڈیزائن کی رہنمائی میں سرگرم عمل رہی ہے ۔ بھارت پشو دھن اوپن سورس فن تعمیر پر بنائے گئے کلائو ڈ بیسڈ ، محفوظ ، قابل اعتبار اور مربوط ڈیٹابیس سسٹم کا تصور کرتا ہے ۔اے پی آئی پر مبنی مربوط ماحول سے اِس کا مقصد تمام شر اکت داروں کو بغیر کسی رُکاوٹ کے جوڑنا ہے تاکہ مؤثر معلومات کے تبادلے کو یقینی بنایا جاسکے۔این ڈی ایل ایم کا بنیادی مقصد کسانوں کو ڈیجیٹل اِنڈیا کے ویژن کے مطابق سرکاری سہولیات،سکیموں کا مکمل اِستعمال کرنے اور مویشیوں سے متعلق خدمات حاصل کرنے کے لئے تکنیکی آلات فراہم کرکے بااِختیار بنانا ہے۔ اِی۔گوپالا ایپ کے اَپ گریڈ سے کسانوں کو اَپنے مویشیوںکے بارے میں ضروری معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے گی اور ڈائریکٹ بنیفٹ ٹرانسفر( ڈی بی ٹی)اور ای۔روپی پر مبنی سہولیات جیسی خدمات کا فائدہ اُٹھایا جائے گا۔ بھارت پشودھن بغیر کسی رُکاوٹ کے پشوئوں کے ڈیٹا کو پروسسنگ اور مینوفیکچرنگ ڈیٹا کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے مصنوعات کی سراغ رسانی کے مکمل سلسلے کو یقینی بنائے گاجو ڈیری اور مویشیوں کی برآمدات کو بڑھانے میں ایک اہم عنصر ہے۔ ڈیٹا بیس میں بیماری اور علاج کا جامع ڈیٹا ایک فارمیٹ میں ہوگا جو اے آئی / ایم ایل ایپلی کیشنز کے لئے موزوں ہے جس سے بیماری کی ماڈلنگ، پیش گوئی، تجزیہ، اور مزید تحقیق کو مؤثر طریقے سے بیماری کی نگرانی اور کنٹرول کو یقینی بنایا جائے گا۔جموں و کشمیر میں بھارت پشودھان۔نیشنل ڈیجیٹل لائیوسٹاک مشن کی عملائی ٹیکنالوجی سے کارفرما کسان پر مبنی ماحولیاتی نظام قائم کرکے مویشیوں شعبے میں انقلاب لانے کے لئے تیار ہے۔ اِس مشن کا مقصد ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے قیام، کسانوں کی بہتر خدمات اور بروقت تازہ معلومات سے خطے میں مویشیوں کے انتظام کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔ڈیٹا بیس کے اندر ڈیٹا کا جامع مربوط بیماریوں کی بہتر نگرانی اور کنٹرول کے قابل بنائے گا، اعلیٰ معیار کے جراثیم کی نشوونما میں سہولیت فراہم کرے گا، مصنوعات کی سراغ رسانی کو یقینی بنائے گا اور ڈیری اور مویشیوں کی برآمدات کو فروغ دے گا۔ کسانوں کو بااِختیار بنانے کے اقدامات بشمول اَپ گریڈ شدہ اِی۔گوپالا ایپ، کسانوں کو اہم معلومات اور سرکاری خدمات تک رسائی فراہم کرے گی جس سے جموں و کشمیر میں مویشی شعبے کی مجموعی ترقی اور نمو میں مدد ملے گی۔










