غیر معیاری ادویات کے حوالے سے میوہ صنعت سے وابستہ افراد فکرمند

غیر معیاری ادویات کے حوالے سے میوہ صنعت سے وابستہ افراد فکرمند

موسم میں تبدیلی آنے پر دوا پاشی کے سیزن ہواہے آغاز ،انتظامیہ سے چیکنگ عمل میں لانے کا مطالبہ

سرینگر //موسم میں تبدیلی رونما ہونے کے فوراًبعد اب میوہ باغات کو دوا چھڑکانے کا سیز ن شروع ہوگیا ہے۔میوہ جات کو بیماریوں سے بچانے کیلئے جراثیم کش ادویات کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن غیر معیاری ادویات کے حوالے سے میوہ صنعت سے وابستہ تمام افراد پریشان حال اور فکرمند ہیں۔کیونکہ گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل میوہ جات میں ایسی بیماریاں بشمول سکیب پھوٹ پڑتی ہے جس سے یہاں کی میوہ صنعت بُری طرح متاثر ہورہی ہے ۔اس سلسلے میںمختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داروں اور باغ مالکان نے کشمیر پریس سروس کوبتایا کہ میوہ صنعت یہاں کی اقتصادی بہتری کیلئے ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اسی صنعت کی بدولت یہاں کے لوگ ترقی کی جانب گامزن ہوئے تھے ۔ کیونکہ میوہ کی خرید وفروخت سے حاصل ہونے والا پیسہ ہی بازاروں میں گردش کررہاتھا اور ہر طبقہ کے لوگوں کا کاروبار بھی اسی پر منحصر ہوا لیکن چند برسوں سے یہ اہم صنعت زوال پذیر ہورہی ہے ۔اس کے بہت سارے محرکات ہیں لیکن میوہ جات کی خرابی کی بڑی وجہ غیر معیاری ادویات کا استعمال ہے ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہاٹی کلچر اوردواساز ایجنسیوں کے درمیان یہ کوئی ساز بازتو نہیں ہے کیونکہ محکمہ باغبانی کے افسران اس حوالے سے خاموش تماشائی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مشوروں اور ہدایات پر عمل در آمد کرتے ہوئے ذمیندار اور باغ مالکان قرضہ لیکر دواپاشی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ادویات کا استعمال بیماروں سے میوہ چھٹکارا دلانے کیلئے کی جاتی ہے لیکن دیکھنے میں باربار آتا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے میوہ جات کے ساتھ ساتھ میوہ درختان میں بھی ایسی بیماریاں لگتی ہیں جس سے یہ صنعت تباہی کی جانب گامزن ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب نیا سال شروع ہوچکا ہے اور دوا پاشی بالکل نزدیک ہے اور اس صنعت سے وابستہ افراد اس حولے سے پریشان حال ہیں کہ وہ دواپاشی کریں یا نہ کریں ۔اس سلسلے میں انہوں نے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت کو بچانے کیلئے فوری طور دوا ساز کمپنیوں کو تنبیع کی جائے اور غیر معیاری ادویات کی خریدوفروخت اور استعمال پر مکمل طور پابندی عائد کی جائے ۔ان کمپنیوں کو سر بمہر کیاجائے جن کو غیر معیاری ادویات کی ترسیل یا فروخت کرنے کی پاداش میں پایا جائے تاکہ ہماری اس اہم صنعت کا تحفظ یقینی بن سکے ۔