گورنمنٹ ڈگری کالج ترال بد نظمی کا شکار ،3ماہ سے مستقل پرنسپل نہیں

سال2018کے بعد جتنے بھی پرنسپل آئے مختصر وقت گزرا اور عہدے سے سبکدوش :مقامی آبادی

سری نگر//جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں بجونی کے مقام پر قائم گورنمنٹ ڈگری کالج ترال بد نظمی کا شکار ہوا ہے کیوں کہ کالج میں گزشتہ3ماہ سے کوئی مستقل پرنسپل نہیں آیاہے جبکہ سال2018کے بعد جتنے بھی پرنسپل آئے وہ سب نوکری کے آخری ایام میں یہاں آئے اور عہدوں سے سبکدوش ہوئے جس پر مقامی لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا ۔کشمیرنیوز سروس ذرائع نے بتایا کالج میں مارچ میں ایک پرنسپل نوکری سے سبکدوش ہوا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی پرنسپل کو تائنات نہیں کیا گیا ہے جبکہ کالج کا معمولی نظام چلانے کے لئے عملے میں موجود ایک سینئر پوروفیسر کو تائنات کیا گیا ہے ۔اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کالج عملے کو عید کے دن بھی پرنسپل کی عدم تائناتی کے باعث تنخواہ نہیں ملی ہے جس میں لوک فنڈس پر گزارنے کرنے والے چھوٹے درجے کے ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ کالج کا باقی کام بھی ٹھپ پڑا ہے ۔جن میں طلباء کی’’ کوکیری کیولر ایکتو ٹیز‘‘ بھی شامل ہیں۔ یاد رہے ڈگری کالج ترال چند سال نہ صرف وادی بلکہ جموںو کشمیر کے بہترین کالجوں میں شمار ہوتا تھا جس نے سال2010میں جموںو کشمیرکے کالجوں میں پہلی بار اندراگاندگی نیشنل این ایس ایس ایواڑ حاصل کیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کالج میں سال2018کے بعد کوئی بھی ایسا پرنسپل نہیں آیا جو کالج میں اپنے فرائض انجام دینے کے لئے آیا بلکہ جتنے بھی پرنسپل اس مدت کے دوران یہاں آئے وہ صرف نوکری کے آکری ایام گزارنے کے لئے آئے ہیں جس کے بعد وہ یہاں سے ہی سبکدوش ہوئے ہیں ۔انہوں نے بتایا نتیجے کے دوران وہ اس مدت میں صرف اپنے کاغذات وغیرہ تیار کررہے تھے جبکہ کالج میں کوئی خاص کام یا کامیابی حاصل نہیں ہو ئی ہے جس اس کالج کاماضی میں ریکارڑرہا ہے ۔ترال کے کچھ معزز شہریوں نے بتایا کہ ترال کالج کے سابق طلباء اس وقت نہ صرف ملک بلکہ دنیاں کے مختلف ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ روایت خدا نہ خواستہ ختم ہو سکتی ہے ۔ انہوں ایل جی انتظامیہ سے اس بارے میں فوری طور مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے فوری طور کالج میں ایک مستقبل پرنسپل کم سے کم3سال کے لئے تائنات کیا جائے ۔جس کالج میں پرانے نظام کو بحال کرنے میں مدد کرے گا ۔عوامی شکایت طلباء اور والدین کے پریشانیوں کے ساتھ ساتھ دیگر کچھ مسائل پر بات چیت کرنے کے غرض سے جب آج نمائندہ کالج کے گیٹ پر پہنچا تو یہاں انچارج پرنسپل نے میڈیا کو اندر آنے کی پہلے اجازت نہیں دی ہے۔