این ایچ ایم نے ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے عالمی یومِ صحت منایا

ہماری پالیسی ’ پہلے مریض ‘ جموں و کشمیر کو صحت کی دیکھ بھال اور طبی سیاحت کو فروغ دینے میں ملک میں بہترین 5 میں شامل کرنے کی کوشش کریں ۔ سی ایس

سرینگر// نیشنل ہیلتھ مشن ( این ایچ ایم ) جموں و کشمیر نے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) کے تعاون سے جمعہ کو یہاں گورنمنٹ ڈینٹل کالج سرینگر میں عالمی یومِ صحت منایا ۔ اس موقع پر آیوشمان بھارت کمپری ہینسیو پرائمری ہیلتھ کئیر اور کایہ کلپ ایوارڈز کے تحت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کا اعزاز بھی دیکھا گیا ۔ آج یہ دن 75 ویں سالگرہ کے سال کے طور پر منایا گیا جس کا موضوع’’ صحت سب کیلئے ‘‘ تھا ۔ جس کا مقصد ایک پُر امن ، خوشحال اور پائیدار دنیا میں بھر پور زندگی کیلئے سب کیلئے اچھی صحت کا حصول ہے ۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے کہا کہ یہ دن صحت کے مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے منایا جا رہا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات سب کیلئے دستیاب ہوں ۔ ڈاکٹر مہتا نے مزید کہا کہ ہماری اجتماعی کوشش یہ ہونی چاہئیے کہ مریضوں کے مفادات کو دیگر تمام خدشات سے دور رکھا جائے ۔ انہوں نے طبی پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے علاج کیلئے ہسپتالوں میں آنے والے تمام افراد کے اطمینان تک بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے کیلئے ’ مریض پہلے کی پالیسی ‘ اختیار کریں ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں یو ٹی کو میڈیکل ٹورازم کے مرکز میں تبدیل کرنا ایل جی انتظامیہ کا بنیادی ہدف ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نئی صنعتی پالیسی کے امید افزاء امکانات کے ساتھ جے اینڈ کے کو طبی صنعت کاروں سے درجنوں تجاویز موصول ہوئی ہیں ۔ چیف سیکرٹری نے انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈز ( آئی پی ایچ ایس ) کے صولوں پر پائے جانے والے خلاء کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو اس سال انتظامیہ کیلئے پہلی ترجیح ہونی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنما خطوط کو اپنانے سے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے اداروں کو تقویت ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحت کی دیکھ بھال کے بارے میں سائنسی اور شواہد پر مبنی نقطہ نظر پر عمل کرتے ہوئے یو ٹی بھر میں صحت کی دیکھ بھال کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے کیلئے بہترین کوششیں کرنے جا رہے ہیں ۔ چیف سیکرٹری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارا صحت کا بنیادی ڈھانچہ ملک کے بہترین ڈھانچے میں سے ایک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی معاملات کے علاوہ مریضوں کو کسی خصوصی علاج کیلئے باہر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئیے ۔ ہمارے صضت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں خدمات کو مسلسل اپ گریڈ کرنے اور ان کے درمیان مسابقت کی روح کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ماہ مقرر کردہ پیرا میٹرز پر ان کا جائیزہ لیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے دنیا میں کہیں سے بھی آسانی سے رسائی اور بازیافت کیلئے مریضوں کے صحت کے ریکارڈ کو ڈیجٹل طور پر برقرار رکھنے کیلئے بھی کہا ۔ ڈاکٹر مہتا نے زور دے کر کہا کہ خون کی کمی ، ٹی بی ، جذام ، سٹنٹنگ ، غذائی قلت سے نجات جموں و کشمیر ہماری پہنچ میں ہے اگر ہر کوئی خلوص نیت کے ساتھ اس کوشش میں شامل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر متعدی امراض ( این سی ڈی ) کو بعض مداخلتوں جیسے ابتدائی حفاظتی ٹیکوں اور متوازن غذا کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نشہ مکت جموں و کشمیر کی مہم کو جموں و کشمیر سے اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے ایک اور سب کی ملکیت ہونی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کی اضافی ذمہ داری ہے کہ وہ منشیات کے استعمال کے متاثرین کے ساتھ ہمدردانہ انداز میں برتاؤ کریں کیونکہ وہ ہم میں سے ایک ہیں اور بہتر زندگی اور عزت کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ صحت کے اداروں کی تعداد جنہوں نے کایہ کلپ کے تحت کوالیفائی کیا تھا ان کی تعداد گذشتہ سال 73 سے بڑھ کر 175 ہو گئی ہے ۔ ہمارا مقصد اگلے ایک سال میں 1000 صحت کے اداروں کا احاطہ کرنا اور ملک کے بہترین پانچ اداروں میں شامل ہونا ہے ۔ اس سے قبل مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم آیوشی سودن نے تقریب میں موجود افسران کا خیر مقدم کیا اور عالمی یومِ صحت منانے کی اہمیت سے آگاہ کیا ۔ مختلف کیٹاگریز میں بہترین کارکردگی دکھانے والے اضلاع کو ٹرافیاں اور چیف میڈیکل آفیسرز اور ڈسٹرکٹ پروگرام منیجمنٹ سٹاف کو ان کے قابل ستائش کام پر سرٹیفکیٹ دئیے گئے ۔