alok kumar

سالانہ امتحان کی تکمیل کے بعد10ویں جماعت کے طلبہ کیلئے اچھی خبر

اگلی کلاس میں عارضی طورپرداخلہ دینے کا فیصلہ،حکومت کامقصد طلبہ کوتعلیمی نقصان سے بچانا:آلوک کمار

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے تعلیمی نقصان سے بچنے کیلئے عارضی طور پر10ویں جماعت کے طلبہ کو اگلی کلاس میں عارضی طورپر داخلہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق بدھ کو دسویں جماعت کے امتحان کے اختتام پذیرہونے کے بعد ہے ،حکومت نے یہ اہم فیصلہ کیا۔ جے کے این ایس کے مطابق کشمیر کے نرم علاقوں میں63543 سے زائد طلباء وطالبات نے میٹرک کے امتحان میں شرکت کی۔ یہ پہلی بار تھا کہ بورڈ کا امتحان مارچ میں ہوا ۔ گزشتہ سال اگست میں حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق تعلیمی سیشن کو مارچ میں منتقل کر دیا تھا۔پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم آلوک کمار نے ایک اخبار کو بتایا کہ ہمیشہ طلبہ کو عارضی داخلہ فراہم کیا جاتاہے اوریہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم طلبہ کو اگلی کلاسوںمیںعارضی داخلہ فراہم کرتے ہیں۔ اس بار بھی ہو جائے گا۔ نتائج آنے تک طلباء وطالبات کو اگلی کلاس میں پروموٹ کر دیا جائے گا۔یکساں تعلیمی کلینڈر کے مطابق جو طلبہ10ویں اور11ویں جماعت کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، انہیں بورڈآف اسکول ایجوکیشن کے امتحان کے اختتام کے بعد بالترتیب11ویں اور 12ویں جماعت میں عارضی یاعبوری داخلہ دیا جائے گا۔ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق، جن طلبہ کو ناکام قرار دیا گیا ہے، انہیں11ویں اور 12ویں جماعت میں اس وقت تک پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت ہوگی جب تک کہ2سالہ/سالانہ پرائیویٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان نہیں ہو جاتا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ2 سالہ امتحان میں کامیاب نہ ہونے والے امیدواروں کا عارضی داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔اس سال پورے کشمیر ڈویڑن میں دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے630 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ وادی کے نرم علاقوں میں تقریباً 63543 طلباء وطالبات نے سالانہ امتحان میں حصہ لیا۔عہدیداروں نے کہا کہ مارچ کے سیشن نے طلبہ کے لیے کئی تعلیمی ہچکیوں کو دور کرنے میں مدد کی ہے۔ ایک افسر نے کہاکہ پہلے جن طالب علموں کو دوسری جگہ داخلہ لینا پڑتا تھا، انہیں ہجرت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس بار طلباء کہیں بھی داخلہ لے سکتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ حکومت اب ہارڈ زون کے لیے امتحان منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ہارڈ زونز وہ علاقے ہیں جو برف کی لپیٹ میں ہیں اور قابل رسائی نہیں ہیں۔ چونکہ مارچ کے دوران علاقے تک رسائی مشکل ہے، اس لیے حکومت نے ان کے امتحان الگ سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان طلباء کو بھی عارضی داخلہ دیا جائے گا اور اگلی کلاس میں ترقی دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہارڈزون والے طلبہ کو عارضی طور پر ترقی بھی دی جائے گی۔