jammu kashmir

مالی برس 2022-23ء کیلئے مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت

جموں وکشمیر یوٹی میں تقریباً9000 کروڑ کی اَ ب تک کی سب سے زیادہ آمد

جموں//اِس برس ایک بڑی کامیابی میں گزشتہ مالی برس 2022-23ء میں جموںوکشمیر کی طرف سے فلیگ شپ مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت اَب تک کی سب سے زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے ۔اِس مدت کے دوران مختلف سکیموں کے تحت جموںوکشمیر یوٹی میں 2,63,595 اَفراد کے لئے روزگار بھی پیدا ہوا۔سال 2022-23 کے دوران ترقی اور پیش رفت کو رجسٹر کرنے کے مختلف پیرامیٹروں کے تحت جموںوکشمیر یوٹی کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے بعد یہ بات سامنے آئی ۔یہ بھی سامنے آیا کہ جموںوکشمیر یوٹی کو سال 2021-22 ء کے دوران مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت موصول ہونے والی کل رقم 7,655 کروڑ روپے تھی جو کہ گزشتہ مالی برس کے دوران 8,938 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جس میں حال ہی میں ختم ہونے والے مالی برس کے لئے تقریباً 15فیصد اِضافہ ہوا۔ سال 2022-23 کے اعداد و شمار مزید آر بی آئی اور اکائونٹنٹ جنرل کے دفتر جے اینڈ کے ساتھ مفاہمت سے مشروط ہیں۔اِس کے علاوہ جموںوکشمیر یوٹی مختلف خود روزگار سکیموں کے تحت 2,63,595اَفراد کو روزگار فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ سال 2021-22ء کے دوران یہ تعداد 2,53,158 تھی جس میں اِس برس جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے ل ئے 10,473 لائیو لی ہڈس کے مواقع کا اِضافہ دیکھا گیا۔جن سکیموں کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں ان میں پی ایم اِی جی پی کے تحت 1,67,932 ، مشن یوتھ کے تحت 35,564 ، جے کے آر ایل ایم کے تحت34,200 ، جے کے ڈبلیو ڈی سی کے تحت 6,457 ، دستکاری اور ہینڈلوم سیکٹر کے تحت 5,331 ، حمایت ( ڈی ڈی یو جی کے وائی ) کے تحت 2,834،بھیڑ پالن کے تحت 2,818، ایس سی ،ایس ٹی اور او بی سی کارپوریشن کے تحت 2,193 ، این یو ایل ایم کے تحت 1,576، اینمل ہسبنڈری اور زرعی پیدوار کے تحت 2,668کے علاوہ درجنوں دیگر مختلف شعبوں کے تحت شامل ہیں۔جموںوکشمیر نے مارچ 2023ء مہینے میں جی ایس ٹی کے تحت محصولات کی وصولی کے سلسلے میں پنجاب (10.37) ، چندی گڈھ (10.09) ، دہلی (17.72) ، راجستھان (15.80) ، ہماچل پردیش (8.11)اور ہریانہ (16.93)ریاستوں اور یوٹیزکے مقابلے میں 29.42فیصد زیادہ اِضافہ کیا ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں یہ تمام حصولیابیاں صرف ایل جی اِنتظطامہ کے تحت شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے اور گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اصلاحات کی بہتات کے بعد مؤثر طریقہ کار کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں۔