چیف سیکرٹری نے عملی طور پرجموں وکشمیر یوٹی بھرمیں منعقد ہونے والی پنچایت سطح کے کنورجنس میٹنگ میں حصہ لیا

جی پی ڈی پی کو منظور کرنے کیلئے 10اپریل کو گرام سبھا کی میٹنگیںطلب کریں اور یوٹی بھر میں مہینے کی 15؍ تاریخ تک اسے حتمی شکل دیں

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹرارون کمار مہتا نےجموںوکشمیر یوٹی کے تمام گرام پنچایتوں میں نئے مالی برس 2023-24ء کے آغاز میں پہلی بار منعقد ہونے والی متعدد پنچایت سطح کی متعدد میٹنگوں میں عملی طورپر حصہ لیا۔اِس ورچیول بات چیت میں پرنسپل سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی ، پی سی سی ایف ، سیکرٹری گریوینسز، ڈی جی بجٹ ، ان محکموں کے دیگر متعلقہ اَفسران اور ایکس پنڈیچرڈویژنز،خزانہ کے ڈائریکٹران موجود تھے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اِس بات چیت کے دوران ہر گرام پنچایت کے پربھاری اَفسروں سے کہا کہ وہ اَپنی متعلقہ پنچایتوں میں حکومت کی نمائندگی کی پوری ذمہ داری لیں ۔اُنہوں نے اُن پر زور دیا کہ وہ مناسب سطح پر شکایات کو حل کرنے کا ایک مناسب طریقہ کاربنائیں تاکہ ان کو لوگوں کے اطمینان کے مطابق حل کیا جاسکے۔چیف سیکرٹری نے ٹریجریوں میں بِل پیش کرنے کے ’’ مارچ رَش‘‘ سے گریز کرنے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ سال کے آخیر تک ذاتی طور پر تمام کام مکمل کریں ۔اُنہوں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ کاموں کی طبعی اورمالیاتی تکمیل کے لئے ماہانہ اہداف طے کریں تاکہ سال بھر پروجیکٹوں کو مؤثر اَنداز میں مکمل کیا جاسکے ۔ اُنہوں نے پورے جموں وکشمیر یوٹی میں ہرماہ کم از کم 7,000 کام مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ سال بھر کے کام کے بوجھ کی بھی تقسیم ہوسکے۔اُنہوں پنچایتوں کی ترقی کے بارے میں ضلع اِنتظامیہ سے کہا کہ وہ 10؍اپریل کو گرام سبھا بلا کر اور مہینے کی 15 ؍ تاریخ تک اسے حتمی شکل دے کر پی آر آئیز کے ساتھ مشاورت سے جامع گرام پنچایت ترقیاتی منصوبے ( جی پی ڈی پی ) بنائے۔اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ کام کی نوعیت اور دائرہ کار کے مطابق ضلع اور یوٹی کے منصوبوں میں سیکٹورل پلانوں کی اہم آہنگی کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے بتایا کہ روزگار ، تعلیم ، کھیل ، ثقافت ، صحت ، سیاحت ، صفائی ستھرائی اور ورثہ جیسے پہلوئوں کے مائیکروپلان نچلی سطح پر مجموعی ترقی کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔اُنہوں نے روزگار کی فراہمی کو اوّلین ترجیحی علاقہ قرار دیتے ہوئے ان تمام لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے منصوبے بنانے پر زور دیا جو اس کی تلاش میں ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ منصوبہ بندی میں اخراجات کی بجائے لوگوں کے حقیقی مسائل کا حل تلاش کرنے پر توجہ دی جائے۔ ہمیں ایک بڑے مقصد کے طور پر اخراجات کی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری نے پی ا ٓر آئی کے نمائندوں ، دورہ کرنے والے پربھاری اَفسران ، لائن ڈیپارٹمنٹوں کے اَفسران کے علاوہ نمبردار وں ، چوکیداروں اور اِس ماہانہ کنورجنس میٹنگ میں شرکت کے لئے جموں ہونے والوں سے اِستفساری گفتگو کی۔ اُنہوں نے نمائندوں اور گائوں کے کارکنوں سے سکولوں ، صحت مراکز ، آگن واڑی مراکز اور دیگر گائوں کے اِداروں کے کام کاج کے بارے میں دریافت کیا۔ اُنہوں نے ان سے مختلف سہولیت جیسے سڑکوں ، پانی ، بجلی اور انہیں فراہم کئے جانے والے ماہانہ راشن کے بارے میں بھی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے ان میں سے ہر ایک سے کھیلوں کے سٹیڈیموں کی صورتحال ، آن لائن خدمات اور ان کے گائوں میں گھر گھر کوڑاکرکٹ جمع کرنے کے بارے میں دریافت کیا۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارو ن کمار مہتا نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان میٹنگوں میں اَپنی شکایات کو ان کے حل کے لئے اٹھائیں ۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی کے پاس ان گائوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی وسائل ہیں۔اُنہوں نے اعلیٰ حکام کے ساتھ نمبرداروں اور چوکیداروں کے بہتر رابطے کی ہدایت دی تاکہ ایل جی اِنتظامیہ کی طرف سے اَپنائے گئے ’’ لوگ پہلے‘‘ کے اَصل مقصد کو ہمارے دیہاتوں سے ہی عملایا جائے۔کمشنر سیکرٹری آر ڈی ڈی مندیپ کور نے اِس بات چیت کے دوران پنچایت سطح کے اِس اجتماعی میٹنگ کو ہر ماہ بغیر کسی ناکامی کے منقد کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے منعقدہ ہر میٹنگ کے منٹس بنانے اور اسے جے کے پنچایت پورٹل پر اَپ لوڈ کرنے پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے پنچایتوں کے اسسٹ کمشنروں کو ہدایت دیکہ وہ یہ ریکارڈ اَپنے متعلقہ اَضلاع کے لئے جمع کر کے ضلع ترقیاتی کمشنر کے ذریعے اِنتظامی دفتر میں جمع کریں۔اُنہوں نے ان سے کہ اکہ وہ ہر لائن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے کی موجودگی کو یقینی بنائیں ۔اُنہوں نے ان دیہاتوں میں پنچایت گھروں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیااور پنچایت سیکرٹریوں اور پنچایت اکائونٹس کے معاونین سے کہا کہ وہ زمینی سطح پر جی پی ڈی پز کے بروقت عملانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تال میل کے ساتھ کام کریں۔چیف سیکرٹری نے جن پنچایتوں کے ساتھ آج بات چیت کی ان میں عملی طور پر پنگلش ( ترال )، کچل بی ( کشتواڑ) ، بردہ کلاں(اکھنور) ، ٹہاب ( پلوامہ) ، لسجن بی نوگام ، سویۂ ٹینگ ( سر ی نگر) ، اپرکد( اودھمپور)،چون (بڈگام ) وغیرہ شامل ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذِکر ہے کہ اِس مالی برس کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کی پنچایتوں میں منعقد ہونے والی پہلی کنورجنس میٹنگ تھی ۔ چیف سیکرٹری نے نچلی سطح پرلوگوں سے اِنتظامیہ کے کام کے بارے میں براہِ راست رائے لینے اور فوری حل کرنے کے لئے ان کی تجاویز اور شکایات کو سنیں اور متعلقہ اَفسران کو ضروری کارروائی کرنے کے لئے ہدایات دیں۔