دونوں یونیورسٹیوںکووقف سے کروڑ وں روپیہ کی ادائیگی:درخشاں اندرابی
سری نگر//جموں و کشمیر وقف بورڈ کے خاتون چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے یہ مطالبہ دوہرایاہے کہ کہ وقف اراضی پر موجود جموں و کشمیر میں موجود2 اسلامی یونیورسٹیوں کا کنٹرول بھی جموں و کشمیر وقف بورڈ کو دیا جائے جیسا کہ کٹرا، جموں کی شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی جس پر شرائن بورڈ کا مکمل کنٹرول ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق سری نگرمیں نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے درخشاں اندرابی نے کہا کہ2 یونیورسٹیاں بشمول اسلامیہ یونیورسٹی اونتی پورہ پلوامہ اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموںمیں وقف اراضی پر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ250 کنال وقف اراضی جو اونتی پورہ کے معروف صوفی بزرگ کے نام پر ہے جن کا مزار جموں سری نگر قومی شاہراہ پر آتا ہے، اس علاقے میں اسلامیہ یونیورسٹی کو الاٹ کیا گیا ہے اور وقف بورڈ نے اس اسلامک یونیورسٹی کی ترقی کیلئے 250 کروڑ روپے کی ادائیگی بھی کی ہے۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کے خاتون چیئرپرسن کاکہناتھاکہ اسی طرح راجوری میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی مکمل طور پر وقف اراضی پر موجود ہے اور بورڈ کی طرف سے یونیورسٹی کو سینکڑوں کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم دی گئی تھی ۔انہوںنے کہاکہ یہ دونوں اسلامک یونیورسٹیاں وقف بورڈ کے کنٹرول میں نہیں آتی ہیں،جیسے کہ ہونا چاہئے تھا۔ڈاکٹر اندرابی نے کہا کہ وقف بورڈ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ دونوں یونیورسٹیاں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UJC) کے ذریعہ چلائی جائیں لیکن بورڈ کو ان پر بھی کنٹرول ہونا چاہئے کیونکہ ماتا ویشنو دیوی کی عبادت گاہ کا کنٹرول ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی پر ہے۔ڈاکٹر درخشاںاندرابی نے کہا کہ بورڈ دو نوں اسلامک یونیورسٹیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کو فنڈز کی ادائیگی کے دوران بورڈ کے پاس ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں تھے لیکن بدلے میں اسے کچھ نہیں ملا۔










