In the financial budget 2023-24, Rs 3,156 crore has been allocated for agriculture and rice-related sectors.

مالی بجٹ 2023-24ء میں زراعت او راس سے منسلک شعبوں کیلئے 3,156 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں

سری نگر//مالی بجٹ 2023-24ء میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے ، خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے اور جموںوکشمیر یوٹی کی اِقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی خاطر جموںوکشمیر کے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے لئے 3,156کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔5,012 کروڑ روپے کی لاگت سے 29مجوزہ پروجیکٹوں سے ایک جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کو آگے بڑھایا گیا ہے جس پر اَگلے پانچ برسوں کے دوران عمل کیا جائے گا۔ایک سرکاری ترجمان نے بتا یا کہ اِس نئے اقدام سے زراعت ، باغبانی اور اس سے منسلک شعبوں میں 2,87,910 لوگوں کے لئے روزگار کے اِضافی مواقع پیدا ہوں گے ۔ اِس کے علاوہ اگلے پانچ برسوں میں 18,861 نئے کاروباری اِدارے بنائے جائیں گے ۔اِس اہم منصوبے کے تحت حکومت 67,000 میٹرک ٹن گنجائش والے سی اے سٹور قائم کرے گی جس سے کسانوں کو بہتر منافع کے لئے اَپنی پیداوار کو ذخیرہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔حکومت جموںوکشمیر پرائیویٹ پلیئرز کو کولڈ سٹوریج (سی اے) سہولیات قائم کرنے کی حوصلہ افزائی اور مدد کر رہی ہے تاکہ مختلف زراعت اور باغبانی مصنوعات کی شیلف لائف کو بڑھا کر فصل کے بعدکسان کا ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔حکومت نے زراعت اور باغبانی پیداوار کو بڑھانے اور فصل کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اُٹھائے ہیں بالخصوص نجی شعبے میں پوسٹ ہارویسٹنگ مینجمنٹ اِنفراسٹرکچر پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر اَگلے پانچ برسوں میں شہد کی پیداوار کو تین گنا کرنے کے لئے 46.65 کروڑ رپوے کا ’’ مگس پالن کا فروغ ‘‘ پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ جی آئی لیبز سے مانیٹرنگ اور ٹریس ایبلٹی کی جائے گی ۔ اِس کے علاوہ پولی نیشن کی سہولیات کو بڑھانے کے لئے 20کسٹم ہائرنگ سینٹربھی قائم کئے جائیں گے ۔ اُنہوں نے کہا ،’’ جموں و کشمیر میں مستقبل مزاجی ، صلاحیت کی تعمیر اور فصل کے بعد کے اِنتظام کے لئے ایک مکمل سینٹر آف ایکسیلنس ہوگا۔‘‘پروجیکٹ کے تحت شہد کی قیمت میں اِضافے اور مقامی شہد کی مکھیوں کے استعمال سے مگس پالن شعبے کی مؤثر ترقی ہوگی۔حکومت جموںوکشمیر نے فِش فارمنگ کو ایک خوشحال سیکٹر بنانے کے لئے مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے کی خاطر 176 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔اِس منصوبے میں جینیاتی طور پر بہتر مچھلی کے بیج کی درآمد ، موجودہ ہیچریوں اور ماہی پالن یونٹوں کو اَپ گریڈ کرنا، آر اینڈ ڈی سے آب زراعت میں انواع کے تنوع کو متعارف کرنا اور آر اے ایس اور بائیو فلوک جیسی جدیدٹیکنالوجی کا اِستعمال کرتے ہوئے ٹرائوٹ اور کارپ مچھلی کی پیداوار کو تجارتی بنانا شامل ہے اور تخمینہ ہے کہ اگلے پانچ برس میں ٹرائوٹ اور کارپ فش کی پیداوار دوگناہوجائے گی۔اِسی طرح ڈیری پالن کا سب سے بڑا جزو ہے اور زراعت کی آمد نی کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار اَدا کرتا ہے اور جموںوکشمیر زراعت اور اس سے منسلک شعبو ں کے لئے ترقی کے طور پر کام کرتا ہے۔اَگلے پانچ برسوں میں دودھ کی پیداوار 25لاکھ میٹرک ٹن سے 45لاکھ ایم ٹی تک پہنچنے کی اُمید ہے اور اسے افزائش کے ہدف میں توسیع اور فی جانور پیداوار میں اِضافہ سمیت متعدد اقدامات سے حاصل کیا جائے گا۔جامع زرعی ترقیاتی پروگرام پروجیکٹ کے تحت ڈیری کے اہم عناصر میں سے ایک فی جانور پیداوار کو 2400 لیٹر سے بڑھا کر 4300لیٹر کرنا ہے جو کہ ایک نمایاں اضافہ ہے ۔یہ 1389سے 2189تک تخم ریزی مراکز کی توسیع اور متعدد اقدامات سے حاصل کیا جائے گا۔