70سالہ خاتون اور7سالہ بچی کا سفاکانہ قتل

70سالہ خاتون اور7سالہ بچی کا سفاکانہ قتل

دونوں مہلوکین کی نعشوں کاپوسٹ مارٹم،دفعہ302کے تحت مقدمات درج:پولیس

سوپور،کپوارہ//ڈانگرپورہ سوپور اور زب کھرہامہ کپوارہ میں بدھ کی شام سے سراسیمگی پائی جاتی ہے ،کیونکہ جہاں ڈانگرپورہ میں نشے کے عادی بیٹے نے بے دردی سے اپنی70سالہ بزرگ ماں کا گلادبا کر قتل کردیا،وہیں زب کھرہامہ میں کچھ گھنٹوں تک لپتہ رہنے والی ایک 7سالہ بچی کی گلا کٹی ہوئی نعش گھر کے نزدیک ایک شیڈ سے برآمد ہوئی ۔متعلقہ پولیس تھانوںنے دونوں نعشوںکاپوسٹ مارٹم کرایا،اور طبی وقانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد بزرگ خاتون اور معصوم بچی کی نعشوںکو آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے لواحقین کے سپردکردیا گیا جبکہ متعلقہ پولیس تھانوںنے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمے درج کرکے بڑے پیمانے پر دونوں خطرناک واقعات کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے ۔سوپور پولیس نے مبینہ طور پراپنی ماںکو سفاکانہ طور پرموت کی نیندسلادینے والے بے رحم بیٹے کوگرفتار کرلیاہے ۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق شمالی قصبہ سوپور کے مضافاتی علاقے ڈانگرپورہ میں بدھ کوشام دیر گئے اُسوقت سخت دہشت اور نفرت کی لہردوڑ گئی ،جب یہاں نشے کے عادی ایک نوجوان نے اپنی بزرگ ماں کی زندگی کاخاتمہ کرڈالا۔معلوم ہواکہ بارہمولہ ضلع کے ڈانگر پورہ سوپور علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نشے کے عادی 32 سالہ بیٹے شوکت احمد گنائی نے اپنی70سالہ ماں کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جرم کے کچھ گھنٹے بعد ملزم جو منشیات کا عادی بتایا جاتا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا۔متوفی خاتون کی شناخت70 سالہ عائشہ بیگم بیوہ مرحوم محمد رمضان گنائی ساکنہ ڈانگر پورہ سوپور کے طور پر ہوئی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد کچھ رشتہ دار اور پڑوسی اس کی لاش کو طبی وقانونی کارروائیوں کیلئے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور لے گئے۔ مقامی لوگوں اور رشتہ داروں کے مطابق اس جرم کے ارتکاب کے فوراً بعد ملزم نے اس کے گھر کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ ڈالے اور اپنے بھائی اور چچا کو بھی زخمی کرنے کی کوشش کی۔سوپورپولیس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 54/2023زیردفعہ302 آئی پی سی کے تحت ایک مقدمہ درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کردی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ سوپور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ملزم شوکت احمد گنائی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔علاقے کے لوگوں بشمول، سماجی کارکنوں و رشتہ داروں نے بتایاکہ سنگین جرم کامرتکب ملزم شوکت احمد گزشتہ15 سال سے نشے کی لت میں مبتلاء تھا ۔انہوںنے کہاکہ کئی مرتبہ اس کوپولیس کے سپردکیاگیا لیکن وہ رہائی پاتاگیا لیکن نشے کی لت سے آزاد نہیں ہوسکا۔انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ ایسے ملزمان کو عوام کے سامنے لٹکائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری وادی میں منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ادھر سرحدی ضلع کپوارہ کے زب کھرہامہ لالپورہ گائوںمیں بھی بدھ کو شام دیر گئے سے سراسیمگی پائی جاتی ہے ،جہاں ایک7سالہ بچی کی گلا کٹی ہوئی نعش گھر کے نزدیک ایک شیڈ سے برآمد کی گئی ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ 7سالہ عظمیٰ ریاض دختر ریاض احمد کھٹانہ ساکنہ زب کھرہامہ لالپورہ کپوارہ بدھ کوشام کے تقریباًچھ بجکر چالیس منٹ پر گھر سے نکلی ۔انہوںنے کہاکہ جب یہ کمسن بچی کافی وقت تک واپس گھر نہیں لوٹی تو افراد خانہ نے اُس کوتلاش کرنا شروع کیا۔رشتہ داروں اور گائوں والوںنے کافی تلاش کے بعد معصوم عظمیٰ کی گلاکٹی ہوئی نعش گھر سے محض 30میٹر کے فاصلے پر ایک شیڈ سے برآمد کی ۔پولیس نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اس واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ لالپورہ کپوارہ سے ایک ٹیم زب کھرہامہ پہنچی اور کمسن بچی کی نعش کواپنی تحویل میں لیکر نزدیکی اسپتال منتقل کیا ۔پولیس کے مطابق اسپتال میں کمسن بچی کی نعش کاپوسٹ مارٹم کرایا گیا اور قانونی وطبی لوازمات کے بعد کمسن بچی کی نعش کوآخری رسومات انجام دینے کیلئے لواحقین کے سپردکیاگیا ۔اس دوران ذرائع نے بتایاکہ کمسن بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کوقتل کرنے سے پہلے تشدد کانشانہ بنایاگیا ۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کپواڑہ یوگل منہاس نے جمعرات کو کہا کہ پولس جلد ہی 7 سالہ بچی کے قتل کیس کا سراغ لگائے گی اور قاتل بھی جلد ہی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔ ایس ایس پی کپواڑہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لولاب کے زب کھرمہ علاقے میں ایک لڑکی کی گلا کٹی لاش ملی اور پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور قاتل کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ایس ایس پی کپوارہ نے مقامی لوگوں پر بھی زور دیا کہ وہ تحقیقات میں ان کے ساتھ تعاون کریں اور اگر کوئی ہے تو پولیس کے ساتھ ان پٹ شیئر کریں۔