لیفٹنٹ گورنر نے جموں میں جنگلات کے عالمی دن کی تقریب میں شرکت کی

جموں//لیفٹنٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج کنونشن سنٹر میں محکمہ جنگلات اور ماحولیات کے زیر اہتمام جنگلات کے عالمی دن کی تقریب میں شرکت کی ۔ لیفٹنٹ گورنر نے لوگوں سے جنگلات کے پائیدار انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور سب کی بھلائی کو یقینی بنانے کیلئے وسائل کے منصفانہ استعمال پر زور دیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ صحت مند جنگلات لوگوں کی صحت مند زندگی کی کلید ہیں اور ان قیمتی قدرتی وسائل کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے ۔ قدیم زمانے سے فطرت کا پیدا کردہ ہر عنصر ہماری پرورش کرتا ہے ۔ہمارے ارد گرد انسانوں ، جانوروں کی صحت ، بہتر ماحول اور بہبود آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔ ‘‘لفٹینٹ گورنر نے صحت مند ماحولیاتی نظام اور مضبوط معیشت کیلئے معاشرے اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ فطرت حکمت کا ایک عظیم ذریعہ ہے ہم فطرت سے جتنا زیادہ سیکھتے ہیں اتنا ہی ہم سمجھتے ہیں کہ جنگلات نہ صرف ہمارے وجود کا لازمی حصہ ہیں بلکہ ہماری ذہنی ، جسمانی صحت اور تندرستی کیلئے بھی ضروری ہیں ۔ وہ معاشرہ جو فطرت کے قریب ہوتا ہے وہ زیادہ خوشحال ہوتا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے اس عالمی دن پر آئیے ’’ ایک دنیا ، ایک صحت ‘‘ کے جذبے کے ساتھ فطرت کے تحفظ اور جنگلات کے تحفظ کیلئے خود کو دوبارہ وقف کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں موجودہ اور آنے والی نسلوں کے فائدے کیلئے معاشی ، سماجی اور ماحولیاتی اقدار کی حفاظت اور پرورش کرنی چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جے اینڈ کے رورل لائیولی ہُڈ مشن کو ہدایت دی کہ وہ اس شعبے سے وابستہ خواتین کاروباریوں کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کیلئے محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر ون سخی یوجنا شروع کرے ۔ لفٹینٹ گورنر نے گچھی مشروم اور آرٹیمیسیا ہربل پلانٹ جیسی اعلیٰ قیمت والی جنگلاتی پیداوار کو فروغ دینے پر مزید زور دیا جو جموں کشمیر کے جنگلات میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں تا کہ جنگلات کو نقصان پہنچائے بغیر جنگلات پر منحصر آبادی کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے ۔ لیفٹنٹ گورنر نے قدرتی وسائل کے تحفظ اور قبائلی خاندانوں کو معاشی فوائد ، معاش اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کیلئے گذشتہ دو برسوں میں کی گئی کوششوں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی رہنمائی میں جنگلات پر انحصار کرنے والے ہمارے قبائلی خاندانوں کی ایک بڑی آبادی کو ان کے جنگلاتی حقوق مل گئے ہیں جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہے تھے ۔ لیفٹنٹ گورنر نے قبائلی امور کے محکمے اور ضلعی انتظامیہ سے کہا کہ وہ جنگلات کے حقوق ایکٹ کے تحت انفرادی حقوق دینے اور ون دھن کیندروں کے قیام کیلئے مشن موڈ میں کام کریں ۔ انہوں نے محکمہ جنگلات اور اس سے منسلک ونگز کی مہم ’’ ہر گاؤں ہریالی ‘‘ کے تحت ’’ ون بیٹ گارڈ ، ون ولیج ‘‘ پروگرام کے تحت اعلیٰ اہداف حاصل کرنے اور جنگلات کے تحفظ کی بیداری کی کوششوں کی تعریف کی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ 55فیصد سے زیادہ گرین کور کے ساتھ جموں کشمیر دیگر کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے آگے ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جنگلات کے پائیدار انتظام کیلئے قیمتی تجاویز بھی دیں ۔ لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ دُنیا کی 2.5بلین آبادی کسی نہ کسی طرح جنگلات پر منحصر ہے ۔ ہماری قدیم تحریروں سے لے کر مصنوعی ذہانت کے آلے کی تازہ ترین اور عظیم ترین ایجاد تک آپ کو ایک چیز مشترکہ مل سکتی ہے یعنی پوری کائنات پانچ عنصر ( پنچ تتوا ) سے بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں جنگلات سے متعلق تعلیم اور شجرکاری مہم میں طلباء کی شرکت کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ون دھن کیندر اور سیلف ہیلپ گروپس کو جنگل کے موافق مصنوعات کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں شامل ہونا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ پنچائتی راج اداروں کو ون سے جل اور جل سے زندگی پروگرام میں شامل کرنے سے قدرتی وسائل کے تحفظ کی ہماری مہم میں زیادہ اثر پڑے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دوبارہ جنگلات کی مہم کو ایک عوامی تحریک بنانا ہے ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے فرنٹ لائن عملے کو ان کی شاندار شراکت کیلئے یو ٹی سطح کے ایوارڈز پیش کئے ۔ انہوں نے گاؤں کی عام زمینوں کو سرسبز بنانے کی کوششوں کیلئے گاؤں کی پنچائتوں کو بھی مبارکباد دی ۔ لیفٹنٹ گورنر نے ’’ فاریسٹ فار لائیولی ہُڈ ‘‘ اور ’’ جی آئی ایس بیسڈ لینڈ یوز اینڈ ایکو سسٹم ریسورس میپنگ آف کشتواڑ ہائی آلٹیچیوڈ نیشنل پارک ‘‘ اور فاریسٹ سانگ ‘‘ پر اشاعتیں بھی جاری کیں ۔ قبل ازیں لفٹینٹ گورنر نے مختلف نمائشی سٹالوں کا معائینہ کیا۔ اس موقع پر پرنسپل سیکرٹری محکمہ جنگلات اور ماحولیات مسٹر دھیرج گپتا ، چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ، دیگر اعلیٰ افسران اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے ۔