Dwivedi

مشرقی لداخ میںحقیقی لائن آف کنٹرول (LAC) پر چین کیساتھ جمود برقرار:لیفٹنٹ جنرل دویدی

سری نگر//فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اپیندر دویدی نے منگل کو کہا کہ مشرقی لداخ میںحقیقی کنٹرول لائن (LAC) پر چین کے ساتھ جمود برقرار ہے اور مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔سینئرآرمی کمانڈر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات قابو میں ہیں،اور دہشت گردی کے واقعات کو مکمل طور پر روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ادھم پور میں واقع ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف ایک میگا ’ویٹرنز سمپارک‘ ریلی سے خطاب کر رہے تھے جس میں جموں و کشمیر رائفلز کی ایک یونٹ ڈیگیانہ میں 800 سے زیادہ سابق فوجیوں اوربہادر خواتین نے شرکت کی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اپیندر دویدی نے کہاکہ مشرقی لداخ میںحقیقی کنٹرول لائن (LAC) پر چین کے ساتھ جمود برقرار ہے۔انہوںنے کہاکہ دونوں ملکوںکے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت چل رہی ہے اور ہماری تمام تشکیلات آپریشن کی تیاری کے اعلیٰ سطح پر ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل دویدی، جنہوں نے گزشتہ سال یکم فروری کو شمالی کمان کے آرمی کمانڈر اور جموں و کشمیر رائفلز کے رجمنٹ کے کرنل اورلداخ سکاؤٹس کا چارج سنبھالا نے کہاکہ ہندوستانی فوج اور چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) مئی 2020 سے مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے ساتھ متعدد علاقوں میں تعطل کا شکار ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل دویدی نے پاکستان کیساتھ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے تسلسل کے بارے میں بھی بات کی لیکن کہا کہ دراندازی کی کچھ کوششیں ہوئی ہیں جنہیں بھارتی فوج نے کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیرکے اندروانی علاقوںمیں صورتحال بڑی حد تک قابو میں ہے۔ سینئرآرمی کمانڈر کاکہناتھاکہ ہمارا انسداد بغاوت و انسداد دہشت گردی کا گرڈ مکمل طور پر سول انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہا ہے اور دہشت گردی کے واقعات کو مکمل طور پر روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس ریلی کا مقصد جموں و کشمیر رائفلز کے سابق فوجیوں، ان کے قریبی رشتہ داروں اور جموں اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے ویر ناریوں تک پہنچ کر ان کے مسائل اور پنشن سے متعلق بے ضابطگیوں کو حل کرنا ہے۔اس موقع پر سابق فوجیوں، ان کے خاندانوں اور ویر ناریوں کے لیے ہندوستانی فوج اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیموں کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی گئیں۔ناردرن کمانڈر نے کہا کہ چونکہ رجمنٹ کے زیادہ تر فوجی اور سابق فوجی جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور پنجاب سے ہیں، اس لیے فوج سابق فوجیوں تک پہنچنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان علاقوں میں مزید ایسی ریلیوں کا انعقاد کرے گی۔لیفٹیننٹ جنرل دویدی نے کہاکہ میری کوشش ہے کہ اپنے سابق فوجیوں اور بہادر خواتین سے ان کے گھر ملوں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے کپواڑہ، سری نگر، پالم پور، لیہہ، اکھنور، راجوری اور دہرادون میں سابق فوجیوں اور ویر ناریوں سے ملاقات کی ہے اور مستقبل میں اننت ناگ، امرتسر، جوتوگ اور دارجلنگ میں ریلیاں منعقد کریں گے۔جے اے کے رائفلز کی بہادری کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل دویدی نے کہا کہ یہ رجمنٹ 1820 میں جموں میں پروان چڑھی تھی اور اس نے تبت، گلگت، یاسین، داریل، ہنزہ نگر، چلاس، چترال جیسے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے جنرل زوراور سنگھ کی قیادت میں اپنی بہادری اور قربانی کی شاندار مثال پیش کی ہے۔