جموں//جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی نے آج ایک روزہ سمینار کا اِنعقاد کیا جس میں’’ ثبوت کے اَصول بشمول الیکٹرانِک ، فارنسک اور میڈکو ۔لیگل ایویڈ ینس(جمع کرنا،تحفظ ،پروڈکشن) تفتیش اور مقدمات کے دوران آئی سی ٹی تکنیک کے اِستعمال ، سٹریٹجک کورسز کو اَپنا نا اور بہترین طریقوں کی نشاندہی کرنا‘‘ شامل تھا۔سمینار کا اِفتتاح جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج اور ممبر گورننگ کمیٹی برائے جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی جسٹس وِنود چٹر جی کول نے کیا ۔ سمینار جوڈیشل اَفسران ، پی پیز ، ایڈیشنل پی پیز ، سی پی اوز ، پی اوز ، پولیس اَفسران ، تفتیشی اَفسران اور میڈیکل اَفسران کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ایڈوکٹ اور سائبرلأ کنسلٹنٹ دہلی نشیتھ ڈِکشٹ نے اِنڈیا کے مختلف معتبر اِداروں جیسے نیشنل پولیس اکیڈیمی حیدر آبار ، سی بی آئی اکیڈیمی غازی آباد، سی ڈی ٹی آئی جے پور،غازی آباد اورچندی گڈھ وغیرہ میں سائبرلأ ٔکے موضوع پر متعدد مذاکرے پیش کئے ہیں۔اَپنے اِفتتاحی خطاب میں جسٹس وِنود چٹر جی نے کہا کہ آج کے ٹیکنوسیوی ماحول میں دُنیا ڈیجیٹل طور پر بدل رہی ہے اور اسی طرح جرائم بھی۔ اِنٹرنیٹ کو شروعات میں تحقیق اور معلومات کے تبادلے کے ٹول کے طور پراور غیر منظم طریقے سے تیار کیا گیا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اِی۔بزنس، اِی۔ کامرس ، اِی۔گورننس اور اِی ۔ پروکیورمنٹ وغیرہ سے زیادہ لین دین کرنے کی شکل اِختیار کرتا گیا۔اِنٹرنیٹ جرائم سے متعلق تمام قانونی مسائل سائبر قوانین سے نمٹائے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کہ اِنٹرنیٹ اِستعمال کرنے والوں کی تعداد میں اِضافہ ہو رہا ہے ، سائبر قوانین کی ضرورت اور ان کے اطلاق میں بھی بہت تیزی آئی ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا جرائم کو کم سے کم رکھنے کے لئے قوانین کی مسلسل کوشش ہونی چاہیے۔ایک ایسے معاشرے میں جو ٹیکنالوجی پر زیادہ سے زیادہ اَنحصار کرتا ہے ، الیکٹرانک قانون شکنی کی بنیاد پر جرائم میں اِضافہ ہوتا ہے اور قانون سازوں کو ان سے بچنے کے لئے دھوکے بازوں کے مقابلے میں زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ڈائریکٹر جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی ایم کے شرما نے اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں پروگرام کا جائزہ لیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ سائبر قانون اِنٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے منفرد چیلنجوں کا جواب دیتا ہے ۔ان ٹیکنالوجیز نے مجرموں ، سائبر بلیز اور دیگر لوگوں کے لئے نئے مواقع پیدا کئے ہیںجو اَپنے مقاصد کے لئے ٹیکنالوجی کا استحصال کریں گے ۔ اُنہوں نے لوگوں کے لئے معلومات کا اشتراک کرنے اور رابطہ قائم کرنے کے نئے طریقے بھی بنائے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ سائبر قوانین لوگوں کو آن لائن فراڈ سے بچانے کے لئے موجود ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات اور ٹرائلز کے دوران آئی سی ٹی تکنیکوں کے اِستعمال کے خصوصی حوالہ سے الیکٹرانک ، فارنسک اور میڈیکو قانونی ثبوت سمیت ثبوت کے اَصولوں کے حوالے سے اِنصاف کی اِنتظامیہ میں شراکت داروں کو حساس بنانے کے لئے جموںوکشمیر جوڈیشنل اکیڈیمی نے یکروزہ سمینار کا انعقاد کیا ہے۔ سمینار کو دو تکنیکی سیشنوں اور فیڈ بیک کے لئے ایک اِستفساری سیشن میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلاتکنیکی سیشن ثبوت کے اَصولوںبشمول الیکٹرانک ، فارنسک اور میڈیکو ۔ قانون ثبوت اور تحقیقات اور ٹرائلز کے دوران آئی سی ٹی تکنیکوں کا اِستعمال پر مرکوز تھا ۔دوسرے تکنیکی سیشن میں سٹریٹجک کورسز کو اَپنانے اور ڈیجیٹل فارنسک کے لئے بہترین طریقوں کی نشاندہی کرنے کا اِحاطہ کیا گیا ۔سمینار کا اِختتام ایک اِستفساری سیشن کے ساتھ ہوا جس میں شرکأ نے موضوع کے مختلف پہلوئوں پر غور و خوض کیا اوراور سوالات اُٹھائے جنہیں ریسورس پرسن نے تسلی بخش جوابات دے کر حل کیا۔










