پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے غیر مقامی خاتون سے پوچھ تاچھ شروع کی
سرینگر///بڈگام میں راجستھان کی ایک خاتون کو بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کے دوران مقامی لوگوں نے دھر دبوچا اور پھر پولیس کے حوالے کیا ۔اس واقعے کی وجہ سے پورے بڈگام ضلع میں سنسنی پھیل گئی اور لوگ حیرت زدہ ہوئے ۔ ادھر پولیس نے اغوا کار خاتون سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے تاکہ اس کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں پتہ چل سکے ۔یاد رہے 2008میں مہران نامی بچہ لاپتہ ہوا تھا جس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق بڈگام میں ایک غیر مقامی خاتون جو بکھارن کے حلیہ میں گھر گھر جاکر بھیک مانگتی تھی نے ایک بچے کو اغوا کرلیا تھا جس کو اس نے اپنے آنچل میں چھپا رکھا تھا جس دوران لوگوں کو شک ہوا اور انہوں نے اسے دبوچ کر پولیس کے حوالے کیا ۔ ذرائع نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں پولیس نے ایک بچے کو اغوا کرنے کے الزام میں ایک غیر مقامی بھکاری کو گرفتار کیا ہے۔خاتون غیر مقامی بھکاری کی شناخت چڑی دیوی بیوی کھنا رام ساکنہ دھنسر، ہنومان گڑھ راجستھان کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولس تھانہ کھاگ کو اطلاع ملی کہ ایک خاتون جو کہ دلواش گاؤں میں بھیک مانگ رہی تھی، کھاگ علاقے کے ایک 4 سالہ بچے آہل احمد پنڈت ولد غلام محی الدین پنڈت ساکن دلوش کھگ گاؤں کو اغوا کر کے لے گئی۔خاتون بھکاری نے بچے کو اسکارف کے نیچے چھپا لیا۔ کچھ خواتین کو شک ہوا اور انہوں نے پولیس اسٹیشن کھاگ کو اطلاع دی۔پولیس کی ایک پارٹی لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ موقع پر پہنچی، مغوی بچے کو اس کے قبضے سے برآمد کرکے موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔پولیس نے اغواکار خاتون کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے اس سے مزید پوچھ تاچھ شروع کردی ہے ۔ اس دوران بچے کو قانونی لوازمات کے بعد والدین کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میں بچوں کی اغوا کاری کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے اور وقتا فوقتا اس قسم کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 13مئی 2008کو اسی طرح کے ایک واقعے میں حبہ کدل علاقے میں مہران نامی ایک بچے کو اغوا کرلیا گیا تھا جو بسیار تلاش کے بعد بھی نہیں ملا اور اُس وقت ابتدائی طور پر معلوم ہوا تھا کہ بچے کو کسی غیر مقامی شخص نے اغوا کرلیا تھا لیکن پولیس بھی ابھی تک مہران کو تلاش کرنے میںکامیاب نہیں ہوئی اور ناہی اس ضمن میں کوئی سراغ ہاتھ لگا تھا۔










