کشمیر میں گزشتہ 4سالوں میں تقریباً 20000 افراد کیخلاف چالان،15 لاکھ روپے سے زیادہ بطورجرمانہ وصول
سری نگر//COTPAایکٹ2003کے تحت عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی ممنوعہ قرار دی گئی ہے جبکہ اس ایکٹ کے تحت تعلیمی اداروں کے گردونواح کی حدودمیں سگریٹ یاسگریٹ مصنوعات کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے ،تاہم متعلقہ ایکٹ کی خلاف ورزی جاری ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق سال2003میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی عادت کی روکتھام کیلئے COTPAایکٹ2003لاگو کیاگیا۔اولین برسوںمیں اس ایکٹ کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ،اورحکام کی جانب سے بڈگام سمیت کچھ اضلاع کوسگریٹ فری بھی قرار دیاگیالیکن عملاً عوامی مقامات بشمول ہوٹلوں،ریستوراں،سرکاری ونجی دفتروں ،مسافر گاڑیوںمیں سگریٹ نوشی کاسلسلہ آج بھی جاری ہے ۔قابل ذکر ہے کہ COTPAایکٹ 2003کے تحت ہوٹلوں،ریستوراں اورسرکاری ونجی دفتروںمیں سگریٹ نوشی کیلئے الگ تھلگ کمرے رکھنے کو لازم قرار دیاگیاتھا جبکہ تعلیمی اداروںکی ایک مقررہ حدودمیں سگریٹ کی خریدوفروخت کوسختی کیساتھ ممنوعہ قرار دیاگیا تھا ۔اس ایکٹ کے تحت خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر جرمانہ بھی عائد کیا جاتاہے ۔کشمیر وادی میں گزشتہ4 سالوں میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کرکے خلاف ورزی کرنے والوں سے 15 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم بطورجرمانہ وصول کی گئی جبکہ 20ہزارافراد کیخلاف چالان بھی کاٹے گئے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں گزشتہ4 سالوں میں تقریباً 20ہزار2 چالان پیش کئے گئے اور خلاف ورزی کرنے والوں سے کل15لاکھ52ہزار152 روپے بطورجرمانے کے وصول کئیگئے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2019-20میں سیکشن4 کے تحت 791 چالان پیش کیے گئے اور 85,390 روپے جمع کیے گئے، سیکشن 6 (اے) کے تحت5 چالانوں سے250 روپے، سیکشن 6 (بی) کے تحت 25 چالان سے 5600 روپے جمع کیے گئے۔ سیکشن 5 کے تحت 9 خلاف ورزی کرنے والوں سے اور سیکشن 7کے تحت2 خلاف ورزی کرنے والوں سے200 جمع کیے گئے۔ سال2020-21 میں سیکشن 4 کے تحت 5944 چالان پیش کیے گئے اور 6لاکھ15ہزر روپے جمع کیے گئے، سیکشن 6 (a) کے تحت6 چالانوں سے300 روپے، سیکشن6 (b) کے تحت 6 چالانوں سے300 روپے جمع کیے گئے، سیکشن 5 کے تحت 19 خلاف ورزی کرنے والوں سے 950 روپے اور سیکشن7 کے تحت 3 خلاف ورزی کرنے والوں سے150 جمع کیے گئے۔ سال2021-22 میں سیکشن 4 کے تحت5435 چالان پیش کیے گئے اور5لاکھ72ہزار805روپے جمع کیے گئے، سیکشن 6 (a) کے تحت 4 چالانوں سے 200 روپے، سیکشن6 (b) کے تحت6 چالانوں سے 300 روپے جمع کیے گئے۔ سیکشن5 کے تحت 12 خلاف ورزی کرنے والوں سے650روپے اور سیکشن 7 کے تحت ایک خلاف ورزی کرنے والے سے50 وصول کیے گئے۔سال 2022-23 میں سیکشن 4 کے تحت7707 چالان پیش کیے گئے اور 2لاکھ65ہزار572 روپے جمع کیے گئے، سیکشن6(a) کے تحت3 چالانوں سے150 روپے، سیکشن 5 کے تحت 7 خلاف ورزی کرنے والوں سے 350 روپے اور 2سیکشن 7 کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں سے 100 روپے جمع کیے گئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں گزشتہ چار سالوں میں تقریباً1200 افراد نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 35.2فیصد مرد اور 5.1فیصد خواتین اور 20.8فیصد تمام بالغ افراد اس وقت جموں و کشمیر میں تمباکو نوشی کرتے ہیں۔










