سیاحوں کیلئے فول پروف اِنتظامات کو یقینی بنایا جائے ۔ ایم ڈی جے کے آر ایل ایم
سری نگر// جموںوکشمیر یوٹی 15؍ مارچ سے سری نگر میں جموںوکشمیر رورل لائیو لی ہڈس مشن ( جے کے آر ایل ایم ) کے زیر اہتمام سارس میلے کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے جسے ’’ سارس آجیویکا میلہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ پہلا ایڈیشن جموں میں فروری مہینے میں ایک دہائی وقفے کے بعد منعقد ہوا جس نے ملک بھر میں کاریگر برادری کی طرف سے زبردست ردِّعمل کا اِظہار کیا ۔ جموںوکشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کہ سارس کا دوسرا ایڈیشن ایک ماہ سے بھی کم وقفے میں منعقد ہوگا۔سری نگر میں خواتین کی زیر قیادت قومی سطح کا کھانے اور ثقافتی میلہ 11دِنوں تک چلے گا اور اس میں ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے منفرد اور مشہور دیسی مصنوعات کی نمائش کی جائے گی۔یہ تقریب خواتین کے ایس ایچ جیز کو اَپنی خود ساختہ مصنوعات کی فروخت اور فروغ کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم اِندو کنول چِب نے میلے کے اِنتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی اور متعلقہ اَفسران کو اِس تقریب کے احسن اِنعقاد کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کے لئے مخصوص ہدایات جاری کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ میلہ دیہی خواتین سے چلائے جانے والے ایس ایچ جیز کو ایک پلیٹ فار فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اَپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرسکیں ، اَپنی مصنوعات فروخت کرسکیں اور بڑی تعداد میں خریداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے میں ان کی مدد کریں۔ سیلف ہیلپ گروپس اِن سٹالوں میں ملک بھر کے مختلف دیہی علاقوں سے دستکاری ، ہینڈ لوم اور روایتی کھانے کی اشیاء کی نمائش کریں گے ۔قومی سطح کے کھانے اور ثقافتی میلے میں ملک کی مختلف رِیاستوں اور یوٹیز سے منفرد اور مشہور مقامی مصنوعات کی نمائش کی جائے گی ۔ یہ ایونٹ شرکأ کو اَپنی خود ساختہ مصنوعات کی فروخت اور فروغ دینے اور مختلف سیلنگ پلیٹ فارموں کے ساتھ مارکیٹنگ کے روابط پیدا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔اُنہوں نے متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹوں سے کہا کہ وہ اِس تقریب کے لئے فول پروف اِنتظامات کریں تاکہ میلے کا اِنعقاد خوش اَسلوبی سے ہوسکے ۔ اُنہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ کسی بھی سٹال پر کسی قسم کی ڈسپوز ایبل اشیاء جیسے پلاسٹک نہیں ہوں گے اور ویسٹ میٹریل کا سائنسی اَنداز میں خیال رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میلے کے مقام کو تمام بنیادی سہولیات جیسے پینے کے پانی ، بیت الخلاء ، سیکورٹی اور طبی سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ تمام ضروری فائر سیفٹی پروٹوکول پر عمل کیا جارہا ہے ۔ میگا ایونٹ کے مقام پر فرسٹ ایڈکیو سک اور چوبیس گھنٹے ایمبولنس خدمات بھی دستیاب ہیں۔میلے میں مجموعی طور پر 70 سٹالز نمائش کے لئے رکھے جائیں گے جن میں سے کھانے پینے کے سٹالوں کی تعداد 15کے لگ بھگ ہوگی جو ملک کے مختلف حصوں سے علاقائی کھانے پیش کرتے ہیں۔اِن ریاستوں میں راجستھان ، اوڑیسہ ، پنجاب ، مغربی بنگال ، تلنگانہ ، میگھالیہ شامل ہیں جنہوں نے سری نگر میں ہونے والے سارس آجیویکا میلے میں اَپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔میلے میں جو ہینڈ لوم پروڈکٹس کی نمائش کی جائے گی ان میں بہار کی سوتی اور ریشم کی ساڑھیاں ، پنجاب سے پھلکاری گارمنٹس ، اُترپردیش سے بانس کے دستکاری اور آرائشی اشیاء ، تلنگانہ کی زری ساڑھیاں ، مہاراشٹر سے چمڑے کی ایک خصوصی چپل بھی ہوگی۔ اِس کے علاوہ میلے میں کیلیکو پینٹنگ ، سانبہ سے جوٹ بیگ ، بہار کی لاگ چوڑیاں ، کٹھوعہ کی بسوہلی مصوری ، بڈگام کی سوزنی شال ، پانپور سے زعفران ، بانڈی پورہ اور پہلوسے پیپر ماشی آئٹمز ، گریز سے کالا زیرا کے اور بہت سے سٹالز ہوں گے میلے کے مقام پر بچوں کے لئے تفریحی سرگرمیوں کا ایک علاقہ بھی قائم کیا جائے گا جہا نوجوانوں کو ان کی قدیم ثقافت ، رسومات ، خوراک ، آرٹ اور دستکاری ،تفریحی سرگرمیاں،ورثے کے بارے میں کچھ سرگرمیوںجیسے مٹی کے برتن بنانے وغیرہ شامل ہوں گی۔اس قومی میلے کی ایک اور اہم خصوصیت جموں و کشمیر کی ثقافتی اور روایتی وراثت کی عکاسی کرنے والے ثقافتی پروگراموں کو مسحور کرے گی۔گاہکوں اور میلے کے شائقین کی سہولت کے لئے میلے کے مقام پر کیش لیس لین دین کی سہولیت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے میلے میں جموںوکشمیر بینک،ایس بی آئی بینک کے موبائل اے ٹی ایمز اور دیگر آن لائن ادائیگی کے اختیارات ہماری خواتین کے ایس ایچ جیز ان کی مصنوعات کو فروخت کرنے کیلئے دستیاب کئے گئے ہیں ۔سارس میلے کا مقصدوزارتِ دیہی ترقی او رپنچایت راج کی دیہی انتیودیا یوجنا۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن ( این آر ایل ایم۔ ڈی اے وائی ) سکیم سے تعاون یافتہ سیلف ہیلپ گروپس کے اِستفادہ کنندگان کو سہولیت فراہم کرنا اور ان کی منصوعات کو قومی سطح پر نمائش اور فروخت کرنے کا مقصد بھی ہے ۔










