ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

پہلگام قبضہ مہاراجہ بہادر سنگھ نے 1932 میں قائم کروایا تھا

برسوں پْرانے ہوٹلوں اور رہائشی مکانات خستہ حالی کے شکار

سرینگر//سیاحتی مقام پہلگام قبضہ 1932 میں اس وقت کے مہاراجہ بہادر سنگھ نے تیمیر کروایا تھا اس کی بعد سیکڑوں دوکانوں اور ہوٹلوں کو لیز پر دیا گیا اور یہ لیز 1972 تک قائم رہا-مقامی دوکانداروں اور ہوٹل والوں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا 1972 سے اب تک ہم سے لیز کا ٹیکس نہیں لیا گیا۔ مقامی دوکانداروں نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کو تجدید ومرمت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سیلانی اور سیاح یہاں پرپہنچ کر مایوس ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگوں اور ہوٹل مالکان نے کہا ہے کہ سیاحتی مقام قبضہ پہلگام کی حفاظت اور شان و رفتہ بچانے کیلئے نئی کنسٹریکشن پر پابندی ہونا ضروری ہے تاہم دہائیوں پْرانی عمارتوں کی تجدیدو مرمت اور رنگ و رغن کے کام کی اجازت ہونی چاہئے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم پہلگام قبضہ جو کہ وادی کشمیر کی سب سے خوبصورت جگہ تصور کی جاتی ہے کی شان و رفتہ بچانے کیلئے عدالت عالیہ نے سال 1972 سے لیز پر قبضہ پہلگام پر تمام قسم کی تعمیر ات پر مکمل پابندی لگائی ہے تاہم پْرانی عمارتوں کی تجدید و مرمت کے کام کیلئے پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اجازت لینا لازمی قراردیا گیا ہے۔ لیکن محکمہ کی جانب سے برسوں بعد بھی تجدیدومرمت اور رنگ و روغن کے کام کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں اور ہوٹل مالکان نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ یہاں پر رہائشی مکانات پچاس سٹھ برس پہلے تعمیر کی جاچکی ہے جبکہ ہوٹل اقبدہائیوں پہلے بنائے گئے ہیں جن کی تجدید و مرمت اور رنگ و روغن کا کام ضروری بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم اس سلسلے میں اقدام اْٹھاتے ہیں تو ’’فیس بْک‘‘ جرنلسٹ موبائل ہاتھوں میں لیکر تصویریں اور ویڈو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال کر کہتے ہیں کہ یہاں پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے اگرچہ پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے تجدید و مرمت کیلئے اجازت لینے کی کوشش کی جاتی ہے تاہم محکمہ برسوں بعد بھی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اتھارٹی کے پاس کئی برسوں سے درخوستیں پڑی ہوئی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور ناہی ہمیں عمارتوں کا رنگ و روغن کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ہمارے رہائشی مکانات خستہ ہوچکے ہیں جن کی مرمت لازمی بن گئی ہے لیکن اس کی اجازت نہیں ملتی۔ انہوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاحتی مقام قبضہ پہلگام میں نئی تعمیرات پر پابندی میں مزید سختی لائیں تاہم پہلے سے تعمیر کی گئی برسوں پْرانی عمارتوں کی تجدیدو مرمت کیلئے اجازت دی جائے اور ہمارے لیز بڈھا? جاے جس سے ہماری مشکلاتوں کا اذالہ ہو سکے ۔پہلگام قبضہ کے دوکانداروں اور ہوٹل والوں نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں اور ان کے مسئلے کو حل کریں۔